آخری مکالمہ

sadia 2

وہ آخری دفعہ مجھے سے ملنے آیا تھا۔ میں جانتی تھی کہ پت جھڑ کے بعد ہی بہار کے پُھول کھلکھلا تے ہیں ۔ اس کی محبت کے زرد پتے ساحل کی ریتلی مٹی پر جا بجا بکھرے ہوئے تھے ۔ میں نرم گُداز پاؤں لیے ان پتوں پر چلتی رہی اور ‘چر چر ‘ کی آواز سے ایک انجانا سکون پاتی رہی ۔ وُہ بُہت دور کھڑا مجھے حسرت بھری نگاہوں سے تکتا رہا ۔ اچانک اُس کی آواز کی بازگشت سنائی دی۔
” چاندنی نے چار سُو قبضہ جما لیا ہے ۔ ذات سے باہر بھی تم ہو اور اندر بھی۔۔۔ تمہارے عشق کی مدھم مدھم سُلگتی ہوئی آگ نے پریشان کردیا ہے ۔ تم مسکراتی بُہت حسین لگتی ہو ! ”
پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد میرے حسین چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا :

”میں نے تمہیں خوامخواہ دکھ دیا تھا۔ کاش ! میں تمہیں آبشاروں کے پار سر سبز وادیوں میں حسین راتوں کی سیر کراتا ۔ تمہارے گیتوں کو اپنا سنگیت جانتا ۔ میں نے تمہاری رفاقت کو رب کا تحفہ جانا تھا، تمہاری آرزو میں اپنی زندگی کی صُبح سے تمہاراانتظار کیا تھا مگر خواہشات کی اسیری نے تمہاری آرزو کو دھندلا دیا یا پھر شاید میں نے خود کو بھلا دیا ہے ۔ تمہارے چہرے پر تل اس حُسن کی دلیل ہے جو تمہاری محبت کی ٹھنڈی چھاؤں میں چھپا ہے ”

وہ جانے کیا کیا کہتا رہا اور میں اس کی سسکتی آرزؤں کے سلگتے سُحاب کی بارش میں اطمینان محسوس کرنے لگی اور میرے ہاتھ درخت کی بھوری کُھردری لکڑی پر پھرنے لگے اور اپنے دامن سے جانے والی خوشیوں کا حساب مانگنے لگے ۔

” تم خاموش کیوں ہو؟ ” اس کی خوف سے بھرپور بازگشت پوری وادی میں گُونجنے لگی۔۔۔ میں نے اُس کی بے قراری میں تڑپتی ہوئی شام کو رات میں بدلنے کے لیے آخری دفعہ لب کھولے:

” محبت کاروبار نہیں ہوتی ۔ میری خاموش محبت کو انکار جان کے اپنی انا کے نیچے دب جانا ،یہ جانتے ہوئے بھی اظہار کو لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔درست تھا؟ محبت میں مادیت نہیں ہوتی !”

میں نے ایک لمحے کوتوقف کیا اور اس کو جانچنا چاہا ۔ ہمارے درمیان حائل صدیوں کا فاصلہ میری نگاہوں سے اُسے اوجھل نہ کرسکا۔ اس کی شکستگی ۔۔۔! اس کی آزردگی ۔۔۔۔، کپکپاتے ہونٹ ، بکھرے بال ۔۔۔غمناک آنکھیں ۔۔۔! اب مجھے ان کی پرواہ نہیں تھی ۔ اس نے کُچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر میں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ۔ اپنی دھیمی مدھر آواز کی نغمگی فضاء میں بکھیرتے کہنے لگی :

”یہ جو محبت ہے نا ! تخلیق جتنا دکھ دے کے جنم لیتی ہے ۔اس درد کی شدت سے شمع گھُل کے وجود کھو دیتی ہے مگر محبت کا دُھواں فضاء میں شامل ہوجاتا ہے ۔۔۔۔!!!میں نے دُھواں فضاء میں تحلیل ہونے دیا ۔۔۔۔!!! اب دل میں کچھ بھی باقی نہیں۔۔!!! راکھ بھی نہیں ،جو تمہارے ہونے کی دلیل ہو!”

شام کے سرمئی بادل رات کے اندھیرے میں بدلنے لگے ۔دسمبر کی یخ بستہ ہوائیں میرے وجود کو سردی کا احساس دِلانے لگی ۔ میں نے اپنے پاؤں سلگتی آگ کے پاس رکھے اور اُس سے مخاطب ہوئی : بجھی چنگاریوں کا سیاہ رنگ ہاتھ کو سیاہ تر کردیتا ہے ۔میرا دامن سپید روشنیوں سے بھرپور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیسے تمہاری سُنو ؟”

یکایک اس کی دلخراش چیخوں سے وادیاں گونجنے لگیں ، اس کا خوبصورت چہرہ ، اپنی ہیئت بدلنے لگا ، مجھے یوں لگا کہ اس نے آگ کے سمندر میں قدم رکھ دیا ہے ۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں کیونکہ میں اس سے دور بیٹھی اس کی آواز کی بازگشت کو محسوس کر رہی تھی ۔ تصور میں اس کا چہرہ آگ سے سُلگتا پایا، جس طرح کاغذ کے خط جلتے محسوس ہوتے ہیں ۔ اس کی شبیہ سُلگ رہی تھی اور میں نے اس کی چیخوں سے پریشان ہوکر آنکھ کھول دی ۔اب اس کی آواز سُنائی نہیں دے رہی تھی ۔ میں نے آواز کے تعاقب میں سفر شروع کیا ۔ میں ایک اندھیرے غار میں داخل ہوئی ۔ اس غار میں سرانڈ سے سانس لینے میں دُشواری محسوس ہونے لگی اور ہاتھ غیر ارادی طور پر ناک پر رکھنے پڑے۔ یکا یک دم توڑتے انسان کی درد ناک کراہوں نے مجھے متوجہ کرلیا ۔ اُس کی آخری سانسوں میں التجا تھی مگر میں انجان بنی اس کو تکتی رہی کہ انسان مرتے وقت کتنا مکروہ لگتا ہے ۔ میں اس کی ان وادیوں سے ہجرت پر خوشی محسوس کر رہی تھی ۔

سنو ۔۔۔۔۔۔!
”مجھے معاف کردو ۔۔۔! میں اس دنیا سے گناہوں کا کفارہ اد کیے بنا نہیں جانا چاہتا ۔ میری حالت ِ زار پر رحم کرو ”

مجھے بیزاری سی محسوس ہونے لگی اور میں اس کی سسکتی چیخوں کو اندھیروں کے حوالے کرکے طمانیت محسوس کرنے لگی ۔ آدم و حوا کا تعلق اگر عزت کا ہوتو محبت پاتا ہےمگر محبتوں نے ڈیرا جما کے تقدیس کو پائمال کر دیا ہے ۔

Loading Facebook Comments ...