دھنک فانی

Dhanak Faani Iram khan
مصنف:

تم بغیر سوچے سمجھے کیسے کسی نئی آفت میں کود پڑتی ہو؟ اس بات کو فوقیت کیوں نہیں دیتی کہ تمہارے ہر عمل کا کسی دوسرے پر کیا اثر ہو گا ؟ کوئی بھی دوسرا انسان تمہارے ذہن کے بدلتے ہوئے زاویوں کو کیونکر سمجھ پائے گا ؟ زندگی ایک گلاب سے رتی بھر مماثلت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔ یہ ایک آگ کا دریا ہے امل، آگ کا دریا۔ یہاں قدم قدم پر چنگاری ہے، سانپ ہیں، بچھو ہیں۔ یہ سب تم کو نگل لیں گے اور تمہارانام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا ۔ ۔ ۔

گھپ اندھیری رات میں ہوسٹل ایک تاریک پرانی عمارت کا روپ دھار چکا تھا کہ یکدم بادل کی گرج نے کمرے کی خاموشی کو توڑا ۔ ۔ ۔ آئرہ ایک بار پھر اپنی سوچوں کو ترتیب دیتے ہوئے اگلی نصیحت تیار کر رہی تھی کہ بارش کی پھوار کمرے کی کھڑکی پر پڑنے لگی اور آئرہ اپنے لکھے ہوئے افسانوں کو پانی سے بچانے کی خاطر کھڑکی کی طرف لپکی ۔ ۔ ۔

ٹھنڈی ہوا اور بارش نے آئرہ کے غصے کو بھی ٹھنڈا کر دیا تھا مگر اس کے ذہن پر اب بھی امل کی اصلاح کا بھوت سوار تھا،جو ایک عرصہ گزرنے کے بعد اُس شخص سے رابطہ کر بیٹھی تھی جس سے آئرہ نے کسی بھی قسم کا تعلق واسطہ رکھنے سے منع کیا تھا۔
وہ شخص امل کے دفتر میں اس کا سینئرتھا ۔ ۔ ۔ آئرہ کا غصہ جائز تھا، مگر امل بھی اپنی جگہ غلط نہ تھی کیونکہ عادل اسکا دوست تھا ۔ ۔ ۔ ایک ایسا دوست جس کے ساتھ اس کا پُرتقدس رشتہ تھا، جسے تمام اخلاقی برائیوں سے پاک خدا نے کسی خوبصورت موسم سے تخلیق کیا تھا ۔ ۔ ۔ جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بدلتا جا رہا تھا، مگر اسکا تقدس آج بھی پہلے کی طرح قائم تھا۔

امل نے آئرہ کو وضاحت پیش کرنے کے لیے اپنی معصوم آنکھوں سے اجازت چاہی۔ آئرہ سمجھ چکی تھی کہ اب امل بہت جذباتی ہو چکی ہے اُس نے اگر مزید مامتا جتائی تو وہ رو دے گی ۔
آئرہ یار! تم مجھ پر جتنا بھی چیخنا چاہتی ہو چیخ لو، جتنا ڈانٹنا چاہتی ہو ڈانٹ لو اور اگر پھر بھی سکون نہ ملے تو مجھے مار لو مگر میرا نقطہ نظر تو سمجھو۔ عادل میرا بہت اچھا دوست تھا وہ بھی اس وقت جب میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ دنیا کو ایک الگ نظر سے دیکھتے ہوئے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا ۔ ۔ ۔

امل یہ سب میں جانتی ہوں! مگر شاید تم بھول رہی ہو کہ عیدالفطر پر اپنے پیارے دوست عادل سے تمہارا کافی جھگڑا ہوا تھا، میرا موقف تو بس یہ ہے کہ اگر تم دونوں نے ایک دوسرے کی عزت کرنا ترک کرہی دیا ہے تو اس برائے نام دوستی کا ایک نیا آغاز دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ انجام پھر وہی ہو گا جو آج سے پہلے ہوتا آیا ہے۔
آئرہ! میں اسے ایک آخری موقع دینا چاہتی ہوں ۔ ۔ ۔

امل! تم نے اُسے پہلے بھی ایک آخری موقع دیا تھا ۔ ۔ ۔ ایک آخری موقع ۔ ۔ ۔ مگر انجام تو وہی ہوا نا جو میں نے تم سے کہا تھا ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے آئرہ بی بی! تم جیتی، میں ہاری۔ مگر اب کیا ہو سکتا ہے، میں تو اسکو ٹیکسٹ کر چکی ہوں ۔ ۔ ۔ امل، امل، امل تم بہت جذباتی ہو جاتی ہو! ایک بار جذبات کے اس بھوت کو اتار کر دیکھو اور میری باتوں پر غور کرو۔

امل! تم جانتی ہو کہ وہ تمھیں پسند کرتا ہے، میں نہیں جانتی کہ اسکی پسند کی وجہ تمہاراحسن ہے یا تمہاراعلم اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم دونوں کی باہم دلچسپی (جو کہ اردو لٹریچر میں ڈوب کرغرک ہونے کی ہے) اسکی پسند کا باعث ہو۔ مگر امل میں یہ جانتی ہوں کہ وہ ایک سلجھا ہوا انسان ہے جو کہ پھر دائمی طریقے سے اپنی پسند کا اظہار کرے گا اور تم پھر سے اسی تکلیف کو محسوس کرو گی، جو تم نے چند ماہ قبل محسوس کی تھی ۔ ۔ ۔ اور ایک بار پھر سے “دی اینڈ” ہو جائے گا ۔ ۔ ۔

تو ٹھیک ہے نا آئرہ! ہو جانے دو پھر ایک بار “دی اینڈ” ، مجھے تو عادت ہو گئ ہے تکلیف سہنے کی ۔ ۔ کبھی کبھی تو لگتا ہےکہ میرا جسم اور روح ایک دوسرے سے مطابقت رکھنے میں قاصر ہیں اور دونوں بہت برس پہلے ہی ایک دوسرے پر طلاق کے حق کا ادراک کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ تبھی تو بسا اوقات ان دونوں کی میت پر آنسو بہانے کا نیک عمل سر انجام دینے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کرتی ۔ ۔ ۔

اف امل! تم نے تو اب ہر حد پار کر دی ہے ۔ ۔ ۔ تمہیں جو بھی کرنا ہے کر لو، میں تمہیں کسی مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑنے والی ۔ ۔ ۔ مگر میرا موڈ خراب ہو گیا ہے کہ تم عادل کا پیچھا آخر کیوں نہیں چھوڑ پا رہی ۔
آئرہ! مجھے عادل میں دلچسپی ہے ۔ ۔ ۔

امل! نہ کرو یار یہ تو خوشخبری ہوئ پھر ۔ ۔ ۔ آئرہ پلیز! میری بات کو مذاق میں نہ لو یار، مجھے عادل کی زندگی میں دلچسپی ہے ۔ ۔ ۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ زندگی میں ان حالات و واقعات سے دو چار ہوا ہو گا جن سے میں ہوئی ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیوں مجھے اس سے باتیں کرنے میں سکون ملتا ہے ۔ ۔ ۔ ایسا سکون جیسے اردو لٹریچر ڈسکس کرتے کرتے ایک دوسرے کے دل کی تکلیف آشنا بنا ڈالی ہو ۔ ۔ ۔ ایک ایسی آشنائی جس کے بعد اجنبیت زہر سے بھی زیادہ کاٹ دیتی ہے ۔ ۔ ۔ کیا کل تک آپ کو محبوب سمجھ کردوستی کی سیج پر بٹھانے والا ایک ہی لمحے میں آپ کے پیروں سے زمین تک کھینچ سکتا ہے؟ کیا انسان ظلم کا دوسرا نام ہے؟ کیا دوستی محبت کا دوسرا نام ہے؟ کیا محبت ایک ایسا کچا اور ظاہری تعلق ہے جس میں انکار کے بعد محبوب کو برداشت کرنے کی بھی سکت نہیں رہتی؟ میں کم از کم عادل میں ایسی کوئی برائی نہیں دیکھ سکتی ۔ ۔ ۔ آہ! یہ بہت تکلیف دہ ہو گا ۔ ۔ ۔

امل! تمہیں اسی تکلیف سے بچانے کی خاطر میں تمھاری کلاس لے رہی تھی ۔ ۔ ۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ تم (دی میز رنر) کا ہیرو بن کر دوڑ لگا دیتی ہو اور ایک نئی آفت کو گلے لگا کر ،اسے اپنا خون دے کر، سینچ سینچ کر اتنا بڑا کر دیتی ہو کہ وہ آفت تمھیں ایک ہی لمحے میں دبوچ کر قبر کی سی تکلیف پہنچا جاتی ہے ۔ ۔ ۔

تو کیا کروں میں آئرہ ۔ ۔ ۔ کیا کروں؟ تمھیں اندازہ نہیں ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں کیسے حالات دیکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مجھے معلوم ہے کہ کچھ حادثات نے مجھے اذیت پسند بنا دیا ہے، مگر میری اذیت بھی با وفا ہے یار! میں نے اسے صرف اپنے لیے ہی چنا ہے کیونکہ اسی تکلیف میں میرے لیے زندگی کا احساس ہے۔ ۔ ۔ ۔ میں ٹوٹ گئی ہوں آئرہ! اپنے ماضی سے فرار ہوتے ہوتے ،میں ٹوٹ گئی ہوں ۔ ۔ ۔ میرے بچپن کی آہیں، وہ سسکیاں، دنیا کی کوئی بھی محبت نہیں مٹا سکتی، چاہے وہ ماں باپ کی محبت ہو یا محبوب کی ۔ ۔ ۔
میری بکھری ہوئی روح کی کرچیاں آج بھی میرے وجود کو چھن سے زخمی کر جاتی ہیں اور میں تا دیر اپنے اندر کے لہو کو بہنے دیتی ہوں، بہتے بہتے وہ ایک ایسی ندی کا روپ دھار لیتا ہے جس میں میرا تن بدن ڈوب جاتا ہے، وہ لال گہرا لہو میرے دماغ میں اترتا چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ میں اپنی بینائی کھو دہتی ہوں ۔ ۔ ۔
خدا کے واسطے امل ایسا مت کہو ۔ ۔ ۔ ایسا بھی کیا ہو گیا ہے؟ کون سے حادثات و واقعات ہیں جن سے اب تک میں بھی لاعلم ہوں، تم کیوں خود کو ماضی کے زہر میں گھولے جا رہی ہو ۔ ۔ ۔ جو کچھ بھی تھا سب ختم ہو گیا ہے، تم اس بات پر یقین کیوں نہیں کر لیتی ۔ ۔ ۔ کیوں بے یقینی کے اس اژدھے کو پالن ہار جتنی فوقیت دے رہی ہو ۔ ۔ ۔ چھوڑ دو نا، جو ماضی تھا وہ گزر چکا ہے، جو آج ہے بہت بہتر ہے ۔ ۔ ۔
آئرہ تم کیا جانو ماضی کے ناسوروں سے پیچھا چھڑانا کتنا مشکل کام ہے؟ یہ تو روح کے داغ کی طرح قیامت کے بعد بھی میرے ساتھ رہیں گے اور میں تب بھی انھیں کوسا کروں گی ۔ ۔ ۔ انھیں نہ تو خدا کی جنت مٹا پائے گی اور نہ اس کی دوزخ جلا پائے گی، یہ تو تا عمر ایک زخمی بچے کی مانند مجھ میں سانس لیتے رہیں گے اور میں ان کے خالق کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی ۔ ۔ ۔
امل! تم کس قدر تیز بخار میں مبتلا ہو؟ چلو اٹھو میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر چلوں، اب تو ویسے بھی صبح ہونے کو ہے ۔ ۔ ۔
آئرہ مجھے ڈاکٹر کے پاس چلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ میں ویسے بھی تھوڑی دیر میں ایسی جگہ جا رہی ہوں جہاں بخار کی حرارت محسوس نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ جہاں صرف تاریکی ہی تاریکی ہے، دور تک پھیلی ہوئی تاریکی ۔ ۔ ۔ جہاں مجھے ظہر سے عصر تک قیام کرنا ہے اور پھر مجھے ایک انعام ملے گا ۔ ۔ ۔
امل! آنکھیں کھولو ۔ ۔ ۔ مجھے دیکھو امل۔۔۔ تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی ۔ ۔ ۔ ہم یقیناًخدا ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ ۔ ۔ کی صدا نے کمرے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ۔ ۔ ۔

Loading Facebook Comments ...