جون ایلیا کی فرنود سے

farnood cover page

Farnood By Jaun Elia 1

  • میں تاریخ کو با اقتدار انسان دشمنوں کا سیاہ اعمال نامہ قرار دیتا ہوں۔
  • اب اگر دانش ہے تو مغرب کی ہے، اقدار ہیں تو مغرب کی ہیں، فنون ہیں تو مغرب کے ہیں، تہذیب ہے تو مغرب کی ہے، معیار ہیں تو مغرب کے ہیں اور فیصلہ ہے تو مغرب کا ہے، کیا ہم اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں؟ کیا مشرق کا کوئی بڑے سے بڑا وکیل اور کوئی شدید جذباتی مشرق پرست اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے؟ افسوس صد افسوس کے نہیں۔
  • اچھائی اور برائی میں ایک عجیب معاملت ہوئی ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے اپنے ناموں کا آپس میں تبادلہ کرلیا ہے۔ اب ہر چیز اپنی ضد نطر آتی ہے۔ علم، جہل پر ریجھہ گیا تھا اور جہل، علم کے خطاب پر بری طرح لوٹ پوٹ تھا۔ سو دونوں ہی نے ایثار سے کام لیا۔
  • فوج کے بارے میں شروع ہی سے میں نے وہ رائے رکھی ہے جو تاریخ کے سب سے شریف اور دانشمند لوگوں کی رائے رہی ہے یعنیٰ سب سے اچھا زمانہ وہ ہوگا جب فوج کا لفظ صرف لغط میں رہ جائے گا اور اسکا وجود وقت کے سیل میں بہہ جائے گا۔
  • تم شائد صرف میرا نام جانتے ہو، مجھے نہیں جانتے، میں نہ بھارت کا آدمی ہوں نا پاکستان کا۔ ایک زمانہ تھا جب میں ہندوستان کا آدمی تھا یعنیٰ برصغیر کا آدمی۔ اسکے بعد میں نے از خود ساری دنیا کی قومیت اختیار کی اور پھر میں کہیں کا نہیں رہا۔
  • علم اس دنیا میں نووارد ہے، رہی جہالت تو اسکو بلا شبہ طوالت سن اور قدامت کا قابل رشک امتیاز حاصل ہے۔ وہ اپنی قدیم جاگیر میں کسی دوسرے کا تصرف آسانی سے گوارا نہیں کرسکتی۔
  • ہمیں تو اب خود اپنے ہونے پر یقین نہیں آتا، کیا ہم واقعی ہیں؟ آپ ہونگے مگر میں تو شائد نہیں ہوں۔ جو اپنی سچی حالتوں کے ساتھہ نہیں پایا جاتا، وہ نہیں ہے، سو میں نہیں ہوں۔
  • سارے رشتے لفظ سے ہیں، لفظ کے ہیں اور لفظ میں ہیں، جو خیال بھی ہے تصور بھی اور معنیٰ بھی ہم اور تم اور وہ سب جو ہماری باتیں سن رہے ہیں لفظ میں سوچتے ہیں لفظ کی لذت میں جیتے ہیں اور لفظ کی اذیت میں مرتے ہیں۔ ہم لفظوں ہی میں ملتے اور لفظوں ہی میں بچھڑتے ہیں لفظ ہی اپناتے ہیں اور لفظ ہی گنواتے ہیں۔
  • ہمارے ہاں بیسویں صدی آئی ہی نہیں بلکے وقت ہمارے بال کھینچ کر، جھنجھوڑ کر ہمیں بیسویں صدی میں خوامخواہ لے جارہا تھا ورنہ ہم تو گیارہویں بارہویں صدی عیسویں کے لوگ تھے۔
  • دھات کے بدن اور گوشت پوست اور ہڈیوں کے قامت دوڑ رہے ہیں۔ چاہے ان میں سے کچھہ دوڑتے دکھائی نہ دیتے ہوں پر وہ سب دوڑ ہی تو رہے ہیں چاہے اپنے باہر دوڑ رہے ہوں یا اپنے اندر۔
  • تعمیر و ترقی کی باتیں اسی قوم کو زیب دیتی ہیں جو معاشی استحکام اور تعلیمی ترقی کے ایک خاص نقطے پر پہنچ چکی ہو۔ اس سے پہلے تعمیر و ترقی کے امکانات پر غور کرنا دماغی عیاشی اور ذہنی بدکاری کے علاوہ اور کچھہ نہیں۔
  • اگر اس دنیا میں کسی جنت کا وجود میں آنا ممکن نہیں ہے تو یہ کوئی منہ بسورنے کی بات نہیں، اگر اس دنیا میں شہد اور شیر کی نہریں نہیں بہہ سکتیں تو شفاف اور شیریں پانی کی نہریں تو بہہ سکتی ہیں۔ کیا جوہڑوں کا پانی پینے والوں کے لئیے شفاف اور شیریں پانی کی نہریں شہد اور شیر کی نہروں سے کچھہ کم ہیں؟۔
  • پچھتاوا بہکاوے کی دین ہے۔
  • علم کے سامنے ذلیل ہونا جہالت کا مقدر ہے
  • جو لوگ اپنے اور اپنی نوع کے دوسرے لوگوں کے لئیے خواب نہیں دیکھتے وہ نیم انسان ہوتے ہیں۔ خواب دیکھنا اپنے آپ میں اپنے آپ سے آگے ہوتا ہے۔ جو شخص یا معاشرہ خواب دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ اپنے آپ میں اپنے سے پیچھے ہوتا ہے یا کم از کم وہیں ہوتا ہے جہاں ہوتا ہے اور وہیں کا ہو رہتا ہے اور اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے۔
  • اگر دیواریں زی روح ہوتیں تو وہ اپنے سینوں پر لکھے ہوئے ذہریلے نعروں کے اثر سے ہلاک ہوجاتیں۔
  • جس نے کہا میں کبھی اپنے بہکاوے میں نہیں آیا، اس نے اپنے آپ کو بڑا ہی برا بہکایا اور جس نے اپنے نزدیک اپنے بارے میں کوئی دھوکہ نہیں کھایا، اس نے بہت بھیانک دھوکہ کھایا۔
  • عقل کا غلط فیصلہ بھی جذبات کے صحیح فیصلے سے بہتر ہوتا ہے۔
  • ہمیں اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کے سوا اور کچھہ نہیں کر رہے؟۔
  • پاکستان کو مملکت خداداد کہا جاتا ہے، اگر سیاسی، لسانی، اور مذہبی جماعتوں کی دہشتگردی اور فتوے باز مولویوں کی بدمعاشی کے باوجود یہ مملکت قائم ہے تو یہ واقعی مملک خداداد ہے۔
  • ہم نے حکمت کو ہوس ناکی بنتے دیکھا اور دلیل کو دلالی، قیادت نے قزاقی کا پیشہ اختیار کیا اور قانون نے نقب زنی شعار کی۔
  • تمہارے خوش حافظہ معلموں اور تیز کلام مقرروں نے تم سے اسقدر جھوٹ بولا ہے کہ اگر تم جان لو تو یقیناَ تمہیں نطق و کلام سے نفرت ہوجائے، کبھی وہ باتیں بھی سننا چاہو جو گراں گزریں کیا معلوم کے راستی اس ہی لہجے کا رس ہو جو تمہں کڑوا لگتا ہے۔
  • تاریخ کے حساس انسانوں نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ اداس رہ کر گزارا ہے۔ زندگی میں خوش رہنے کے لئیے بہت زیادہ ہمت بلکے بہت زیادہ بے حسی چاہئیے۔
  • اگر آپ کامیاب عشق کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک غیر عاشق اور عاقل قسم کا شخص ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی ایک بہت گھٹیا اور عیار شخص بھی، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یے “عشق” کے ساتھ “کرنا” کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔ عشق تو ہو جاتا ہے، کیا نہیں جاتا۔ بھائیو یہ ایک بحٖث طلب بات ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ عشق ہوتا نہیں کیا جاتا ہے اور چونکہ میں ایک شاعر ہوں اور عشق کے موضوع پر سب سے بڑی سند شاعر ہوتے ہیں اس لیے آپ کو میری بات ماننا پڑے گی، اگر عشق کے موضوع پر مجھے یعنی ایک شاعر کو سند نہیں مانا جائے گا تو کیا کسی آئی جی،ڈپٹی کمشنر اور ان سے اوپر جا کر کسی کمانڈر انچیف’ وزیراعظم یا کسی صدر مملکت کے قول کو سند مانا جائے گا۔ یہ لوگ تو یکسر نا بجا طور پر وہ خوش نصیب ترین اور عام لوگ قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو نہ عشق کرتے ہیں اور جنہیں نہ عشق ہوتا ہے۔ ان سے تو، ان ظالموں اور قاتلوں سے تو عشق لڑایا جاتا ہے، ہر بدزوق،بے شعور، بد باطن اور دنیا دار حسینہ انہی لوگوں کو پٹانے کی فکر میں رہتی ہے۔ میں نے حسیں عورتوں کو عام طور پر بے ضمیر اور لالچی پایا ہے،کم از کم مجھے تو کسی با ضمیر اور بے غرض حسینہ سے ملنے کا آج تک موقع نہیں ملا۔میں نے کوِئی اور کارنامہ انجام دیا ہو یا نہ دیا ہو مگر ایک کارنامہ ضرور انجام دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے ان حسین لڑکیوں کو بری طرح ذلیل کیا ہے، اس لیے کہ مجھے ان سے میر تقی میر اور اپنے معصوم تریں بھائی حضرت عبدالعزیز خالد کا انتقام لینا تھا۔ مجھے امید ہے کہ میرا “خدا غیور” مجھَے اس کا اجر دے گا۔۔​

Farnood By Jaun Elia 2

Loading Facebook Comments ...