حقیقی چاہت ۔ افسانہ

Arif Jameel Haqeeqi chahat

بیٹی تمھار ے لیئے بہت اچھا رشتہ آیا ہے۔خوابوں کی دُنیا میں رہنے والی اور الیکٹرونک میڈیا میں ملازمت کے دوران رفقاء کی ہیروئن نرگس کو یہ ماں کی عام سی حسب ِمعمول بات لگی لیکن اس دفعہ یہ ضرور ہوا کہ اُس نے جواب میں یہ پوچھ لیا “اماں اب کون ہے” ؟
ایک شریف خاندان کا ۔۔۔۔اوہ ۔اماں وہ تو میں جانتی ہوں ماں ہمیشہ بیٹی بیٹے کیلئے شریف خاندان کا رشتہ ہی ڈھونڈتی ہے۔
اچھا ابھی تو میرے پروگرام کا ٹائم ہو رہا ہے واپس آکر آپ سے اس رشتے کے بارے میں گپ شپ لگائوں گی۔میری پیاری اماں جان۔ماں بولی ـ”بس یہی تیری پُھرتیاں مجھے سمجھ نہیں آتیں”۔
” اماں جان یہ ہی آج کے دور میں کامیابی کی علامت ہیں نہیں تو پیچھے”۔نرگس بولی
ادارے کے اسٹوڈیو میں داخل ہونے کی دیر تھی کہ وہاں پر موجود مرد خواتین رفقاء کے تاثرات آنا شروع ہو گئے۔ ایک طرف سے آوازآئی ان کپڑوں میں بہت سمارٹ لگ رہی ہو۔کوئی بولا۔سینڈل بہت خوبصورت ہیں۔کسی نے کہا میک اَپ کوئی کرنا تم سے سیکھے۔
نرگس پہلے ہی اُن سب میں ایک ہیروئن کی مانند مقبول تھی اور اس طرح کے تاثرات سننے کی عادی بھی۔لیکن خود پسندی کی جھلک دیکھنے کیلئے آئینہ اُسکا بہترین دوست تھا۔لہذا آج بھی گھر واپس آکر چند لمحے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی کہ جدید دُنیا میں عورت کو کم ازکم اپنے حُسن اور فیشن کی وجہ سے جو اہمیت حاصل ہورہی ہے ماضی میں یہ کہیں چار دیواری تک ہی محدود تھی۔
اماں کی آواز آئی “آجائو تمھارے ابو اور بھائی بھی آگئے ہیں مِل کر کھانا کھا لو” ۔
نرگس نے کمرے میں آکر ابو کو سلام کیا اور چھوٹے بھائی سے اُسکی پڑھائی کے بارے میں پوچھنے لگی۔
ابو بولے” تم سُنائو بحیثیت اینکر کسی کے تجربے سے فائدہ بھی اُٹھایا “؟
نرگس بولی ” دوسروں کے تجربات احتیاط کا راستہ بھی دکھاتے ہیں اور کامیابی کا راستہ بھی بتاتے ہیں”۔
واہ !واہ۔ابو بولے کیا حقیقت پسندانہ جواب دیا ہے۔
اماں بولی ” سمجھداری کی بات ہو گئی اور اب اگلی سمجھداری کی بات یہ ہے کہ جس رشتے کی میں نے تم سے صبح بات کی تھی وہ تمھارے ابو کے دفتر کے ایک دوست کا بیٹا ہے”۔
ابو مسکراتے ہوئے بولے” میری بیٹی مان جائے جو تو زندگی کے اس سب سے اہم تجربے کا لطف بھی اُٹھا لے گی”۔
“جیسے میں تمھاری اماں کی باتیں سن کر گزر رہا ہوں” ۔اماں نے خفگی کے اندازمیں اُنکی طرف دیکھا اور کہا ـ “ایسے تو وہ مان چکی”۔
اس دوران چھوٹا بھائی بولا” آپی اس دفعہ ہاں کر ہی دیںتاکہ اماں کو سکون آجائے”۔
گلیمر کی دُنیا سے وابستہ لڑکی کیلئے جیون ساتھی منتخب کرنا کتنا مشکل ہو تا ہے نرگس جانتی تھی۔ کہاں اتنے چاہنے والے اور کہاں ؟
اور وہ بھی کیسا؟ کس ذہن کا؟
اماں بولی “آپ کل اُنھیں گھر پر دعوت دیں ” نر گس کا اس جملے پر سوچنے کا سلسلہ ٹوٹا اور وہ اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“کامران آج میرے پروگرام میں ایک ایسی مشہور شخصیت آرہی ہے جسکے نام سے ہی اُسکی شائستگی کا اظہار ہو جاتا ہے”۔نرگس بولی۔
“چلو آج شام کو میں بھی دیکھوں گا ” کامران بولا۔
نرگس نے انٹرویومیں اُن سے بہت سے سوالات پوچھے جنکے جوابات اُنکی عملی و ادبی شخصیت کے مطابق حسب روایت سے لگے لیکن جب ذاتی زندگی پر ایک سوال یہ پوچھا کہ آپ نے تین شادیاں کیں لیکن ایک بھی کامیاب نہیں ہوئی تو اُنھوں نے جواب دیا شاید صلاحیتوں کے چاہنے والوں میں اور ساتھ میں زندگی گزارنے والوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔لہذا کہہ سکتے ہیں اپنی شہرت کا حصا ر نہ توڑ پایا تو رشتے ٹوٹتے چلے گئے۔لیکن یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ اُن تینوں میں سے ایک نے بھی مجھے جاننے یا سمجھانے کی کوشش نہیں کی۔
نرگس اُس رات گھر واپس آئی تو کچھ کھوئی کھوئی سی تھی۔کامران نے پوچھا ” انٹرویو تو بہت اچھا کیا ہے پھر اُدا س کیوں” ؟
کامران ہماری شادی کو چھ ماہ ہو گئے ہیں۔لیکن آج کے انٹرویو میں جب میاں بیوی کے رشتے میں شہرت کے حصار، جاننے اور سمجھنے کی بات ہوئی تو مجھے ایک دم آپ کا خیال آیا۔میں اپنی خواہشات اور شہرت کو مصروفیت کا نام دے کر جن کے سامنے کھڑی ہوتی ہوں اُنکی نظروں اور باتوں کا خیال آج مجھے واپسی میں راستے میں آیا۔جنکی نظروں میں اپنے آپکو خوبصورت سمجھ رہی تھی وہ میں نہیں ایک عورت تھی لیکن جن نظروں سے آپ دیکھ رہے تھے اور میں خیال ہی نہیں کر رہی تھی وہ حُسن تھا ایک بیوی کا حُسن۔
میرے بنائو سنگھار اور فیش ایبل کپڑوں کی ضرورت گلیمر کی دُنیا کی بناوٹی تصویر ہے لیکن آج میں جانی کہ آپکی سادگی میں اصل محبت کی تعریف و دلیل ہے۔ میں نے اپنی والدین کی خواہش کو مقدم سمجھتے ہوئے آپکو اپنا جیون ساتھی بنا لیا ۔ جو اُس وقت میرے لیئے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ میں آپ کے گھر میں آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ آپ سادہ سے لوگ ہیں جو اپنے اُن اصولوں اور روایتوں پر قائم ہیں جن سے میں اپنے آپکو کوسسوں دُور سمجھاتی رہی۔
کامران حیرانگی سے نرگس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ آج وہ کیسی باتیں کر رہی ہے۔ایک دو بار اُ س نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو نرگس نے اُس سے اشارے سے چُپ رہنے کیلئے کہا۔
وہ کہہ رہی تھی” میں یہ ضرور حیران تھی کہ آپ مجھے کسی بات سے روکتے نہیں ۔جہاں میں جا نا چاہتی آپ کے ساتھ یا اکیلے آپ نے کبھی انکار نہیں کیا ۔شاید میں اس کو اپنی فتح سمجھ رہی تھی لیکن آج مجھے احساس ہوا کہ میرا دِل شکست کھا رہا تھا۔ آپکی یہ ادا میرے دِل کے کسی کونے میں حقیقی چاہت کا وہ رنگ بھر رہی تھی جسکا پردہ آج اچانک اُٹھا اور آپکی تصویر نظر آئی ۔حقیقت یہی ہے کہ عورت کی عزت اپنے خاوند کے پہلو میں ہی ہے۔اُسکے علاوہ زیادہ تر پیچھے سے آوازیں کسنے والے ہی ہو تے ہیں”۔

Loading Facebook Comments ...