کسمپُرسی

kasmpursi zahid butt

آدھے مفلوج جسم کے ساتھ کمرے کی باہنی دیوار کے ساتھ لگی چارپائی پر بڑھیا لیٹی ہے ۔ سفید روشنائی کا برقی بلب اپنا عکس نیچے بناتا ہوا کمرے کو روشن کیئے ہوئے ہے ۔مرکزی دروازے کے کھلتے ساتھ واقع اس کمرے کی داہنی جانب ایک چھوٹی سی گیلری ہے جس میں آج کل ایک قدمچہ لگا ہوا ہے ، کمرے کی چاردیواری سے گرنے والا سیمنٹ اور بالن کی بنی چھت کے ایک کونے سے ٹپکنے والا پانی کمرے کی بوسیدہ حالت کو عیاں کر ر ہا ہے ، ایک کونے میں غالباً لکڑی کی پٹی پر پرانے ما ڈ ل کا ٹیلیوژن موجود ہے ،کمرے کی اگلی جانب ایک ا ور چھوٹے مستطیل نما کمرے میں پڑا پلنگ اُ سی بوسیدہ چھت کے زِیرِسایہ ہے ۔ مرکزی دروازے کے کھلنے سے ایک خوش خبری لیئے اندر داخل ہونے والی ایک خوش شکل عورت ہے جو شکل و ہیئت سے غالباً پینتیس سال کی معلوم ہوتی ہے ،وہ خبر جس کو سُننے کے لیئے بڑھیا پچھلے دس سالوں سے بے چین اور اضطراب کا شکار ہے ۔جس کے انتظار نے اس کے چہرے کی جھریوں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس کی چمکتی آنکھوں سے بصارت کو مدھم کر دیا ہے ،اور اس کے اعصاب میں قوت کوعتاب کر دیا ہے ۔
آج بڑھیا کے چھوٹے بیٹے کی اس کے کسی دور کے رشتہ دار کے ہاں نسبت قرار پائی ہے ۔بڑھیا کی خوشی کے تمام بند دریا کی وسیع موجوں کی طر ح تما م رکاوٹوں کو توڑنے کو ہیں۔خوشی کی یہ انتہا اسے اپنے بایئں حصے کے مفلوج ہوتے ہوئے بھی چارپائی سے نہ جانی قوت کے سہارے اٹھنے کی سکت مہیا کر رہی ہے ،ایک حصے کو اوپر جھٹکتی ہے تو دوسرے حصے میں قوت کی کمی اسے پھر سے نیچے دھکیل دیتی ہے ۔اتنے میں ایک فرباں جسم کے ساتھ لگ بھگ تینتالیس سال کا آدمی کمرے میں لپکتا ہے اور سہارے کے ذریعے بوڑھی عورت کو بٹھا دیتا ہے
’’بے بے آج خوش ہیں ‘‘
ہاں ۔۔۔ ہا ں ۔۔۔۔ میرے بیٹے کی شادی ہونے والی ہے ۔
ر کے رکے لہجے میں بولتے ہوئے بڑھیا کے سانس اُ کھڑنا شروع ہو جاتے ہیں ،کمرے میں موجود مرد پاس کھڑی عورت سے مخاطب ہوتا ہے۔۔جلدی سے پانی لے کر آئوئوئوئو۔۔۔۔
عورت چارپائی کے سرہانی طرف پڑے گھڑے سے فوراً پانی کا گلاس بڑھیا کی جانب بھر ا دیتی ہے ، اس مادی دنیا میں بڑ ھیا کا اس عورت سے وہی رشتہ ہے جو نوک جھوک کاتعلق کہلاتا ہے ، پانی مانگوانے والا اس کا بڑا بیٹا ہے ۔
جہاں آج کا دن اس گھرانے کے لیے خوشیوں کے ساتویں آسما ن پر ہے وہاں لاشعور ی طورایک نہ جا نا خوف ان سب کے دل میں پریشانی اور اضطراب بٹھائے ہوئے ہے ۔
کوئی شک نہیں اس کائنات میں صحت مند جسم کے ساتھ پیدا ہونا لائق شکر ہے ،ایسے وجود کے ساتھ پیدا ہو نا جس پر انسان کا کچھ اختیار نہیں زندگی کی تمام نعمتیں یک طر ف اور اس احسان کا شکر بجا لانا حیف ہے ۔ ہر شخص کو زندہ رہنے کے لیے سانس لینے کے علاوہ کچھ بنیادی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے اور جس شخص کو وہ بنیادی ضروریا ت کی دستیابی ممکن نہ ہو سکے ان کے لیئے لفظِ ’’غربت ‘‘ استعمال کیا جاتا ہے ۔چار الفاظ پر مبنی یہ مختصر لفظ اپنے اندر جو تکلیف ،اذیت ، درد،مجبوری،بے بسی،آنسواور کوفت سمیٹے ہوئے ہوتا ہے اس سے وہی آشنا ہو سکتا ہے جو اس عمل سے گزر رہا ہو۔اس درد سے وہی واقف ہو سکتا ہے جو اس کو محسوس کر رہا ہو ۔ صحت مند وجود بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے بغیر زندگی کو کاٹ تو سکتا ہے گزار نے کی سکت نہیں رکھتا ہے ۔اور متزلزل جسمانی ، ذہنی ،دلی کیفیات اور معاشرتی حالات لیئے اس ہوش مند دنیا میںچلنا ممکن بھی کیسے ہے ؟
عقیل بڑھیا کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے آج چالیس سال بعداس کی شادی طے ہونے پائی ہے، جبکہ ہر جوان شاد ی کے ان خو بصورت احسا سات کو اُبھرتی عمر کے چڑھتے دنوں میں جلداز جلد محسوس کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے ۔۔ان محصور لمحات کو جو ٹھنڈی رات میں اپنے ہمسفر کے ساتھ تاروں کی چاندنی میں بتائے جانے کے خوبصورت خیالات ہوں ۔ ان حسین لمحوں کو جو برستی شام میں اپنے ہم قدم کے ساتھ نرم گھا س پر بھیگتے چلنے کے اطمینان بخش تصورات ہوں ۔۔ لیکن آج عمر کے اس پل خوشی کی یہ خبر نہ اسے خوشی بخشتی ہے نہ تحسیں،اس کا دماغ منتشر خیالات کی زد میں ہے ۔۔۔ اپنے بچپن سے اب تک کی زندگی ایک کوڑے کے ڈھیر کی مانند لگ رہی ہے جو اسے کوفت میں مبتلا کر رہی ہے اسے آج بھی اپنے لڑکپن کا وہ دن یاد ہے جب نو سال کی عمر میں باپ کا سایہ اس گھر کی چھت سے اٹھا لیا گیا تھا ، جس عمر میں ماں کی شفقت اور باپ کا پیار مقدر بنتا ہے، در بدر کی ٹھو کریں ، گالیاں ، تا نوں کے نیزے اس موم دل پر نقش کئے جاتے۔ پل پل جھڑکیوں کے تیز خنجر اس کے کومل چہرے کو زخمی کرتے ۔ نوکری ملتی بھی کیسے؟ تین جماعتوں کے پاس کرنے سے کونسی نوکری کی تلاش میں تھا آخر ایک فیکٹری نے قبول تو کیا ،لیکن چند دن کام کروانے کے بعد اپنے کام کے ٹھند ا پر نے پر بلا وجہ نکال دیا ۔ پل پل کا دھتکار جانا پھر جیسے معمول کا حصہ بن گیا ۔ کہیں سے خود نکال دیا جاتا کہیں سے مار پیٹ برداشت نا کرتے ہوئے خود بھاگنا پڑتا ۔ ہر روز بے بسی کا نشان بننے پر اس پھول صورت بچے کے اند ر توڑ پھوڑ کا جو طوفان بپا ہوا اسے دوبارہ سے ٹھیک ہونے کے لیے کم از کم اس زندگی کا عرصہ تو نا قابل کافی تھا ، جوانی نے مزید درد اور اذیتوں سے نا زک اعصاب کو خوابوں کی دنیا سے خاکی زمین پر ایسا پٹکا کہ سنبھلے کا وقت کہاں تھا ، کسمپرسی، مجبوری اور تنہا ئی ذہن کو درد سے آشناکر دیتی ہے پھر دوسرں کے غم اور غربت کا اندازہ بھی زیادہ بہتر محسوس ہوتاہے ۔
بے بسی عذابِ اِلہی سے کم نہیں جوان بیٹیوں کے جن کا باپ موذی کینسر سے لڑ رہا ہے ، بے یارومدد گا ر جھولی پھیلائے سڑکوں کی خاک چھاننے ،رجس القا بات کے جن کو سننا بھرے بازار میں کالک منہ پر پونچھ دینے سے کم نہیں بے بسی نے خاموش کر دیا ۔اس باپ کے دل کی حالت کے جو گھر جانے سے پیشماں ہے جس کے گھر میں تین دن کا فاقہ ہے اس کے بیوی بچے آج تین دن گزر جانے کا بعد بھی اس آس پر ہیں آج اس گھر کا دنیاوی رزاق ان کی بھوک پیاس کا مداوا کرے گا ،لیکن آج چوتھے دن بھی اس کی جیب میں کچھ نہیں، گھر جائے تو کس منہ کے ساتھ جائے۔ اس ماں کی ذہنی حالت کے جس کے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں ،فاقہ کشی نے اس کے ہاتھوں میں وہ قوت بھر دی ہے جو اپنے نازک ننھے بچوں پر تیز چھری چلاتے وقت ایک سیر وجود میں بھی نہیں ہوتی۔۔۔۔
اس جوان بچی کی دلی حالت کے جو ایوانِ گناہ سے اس نہر کو ابتر جانتی ہے کہ جس میں کود جانا اسے ضمیر کی ہر روز موت سے آسان لگتا ہے۔۔ ہزاروں کے قرضے میں ڈوبا وہ شخص کے جس کے دروازے پر قرضے کی وسولی کے لیے چند لوگ عزرایئل کی سی دستک دیتے ہوں ۔ٹھٹھرتی رات میں معصوم بچے کا پھٹی قمیض میں انڈے بیچتا کانپتا وجود جو اپنے گھر کا ’’ بڑا ‘‘ہے ۔چار بہنوں اور ماں کو پالنے والا وہ کم سن بچہ جو صبح سے رات تک گاڑیوں کی ورکشاپ پر ہاتھ کالے کرنے اور استا د نامی مالک سے آہنی چابیاں کھانے پر مجبو ر ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ بے بسی اور افق کی دوزخ میں فرق صرف جگہ کا ہے۔
ہر ماں کی طرح عقیل کی ماں نے بھی جیسے تیسے کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ہر وہ ممکن کوشش کی جو وہ کر سکتی تھی آخر خو راک کی کمی اور کام کی زیادتی نے ایک دن اس کے آدھے جسم کو فالج جیسے خطرناک مرض نے زد میں لے لیا ۔جہاں زندگی پہلے ہی صرف ہاتھوں سے منہ تک جانے والی کمائی کے سہارے تھی اب علاج کے لیے ادھار کا ایک لا متناہی سلسلہ آ غا ز کر گیا ۔اب وہ چارپائی پر پچھلے چھ ماہ سے پری ہے اس بڑھیا کے دل پر بس ایک بوجھ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی کر دے تا کہ اگلے جہاں تمام عمر فاقہ کشی میں گزارنے کے بعداس رزاق کے سامنے اپنے فرائض کی کوتاہی کے لیے اس کی سرزنش نہ ہو جائے۔اور آج آخر کار اس حقیقی المجیبُ نے اس کی دلی مرادقبول کر لی۔
غربت کا قہر انسان کی ساری زندگی نچوڑ کے حالِ مرگ پر بھی ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں کو میسر نہیں کرتا ، بے بسی انسان کو اپنی آنکھوں میں بونہ کر دیتی ہے ، افلاس انسان کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے اور جب ضمیر مردہ ہو جائے پھر خواہشوں کا کوئی وجود نہیں رہتا ۔
عقد میں آنے والی خوش اخلاق عالیہ عمر کے ا عتبار سے غالباً پینتس سال کی معلوم ہوتی ہیں ۔ مجبوری ، بے بسی ،افلاس ؛ تمنائوں ،آرزؤں اور خواہشات کے بالکل متضاد ہے موذی غربت بھی غریب کی بیٹی کے لیے اک بارِعذاب ہے ، بار بار مجسمہ بن کر ہزاروں لوگوں کے سامنے ایک بکاؤ مال کی طرح سج سنور کے بیٹھنا اور پھر ان ویپاریوں کا اچھی طرح ٹٹولنے کے بعد نہ پسند کر کے چھوڑ جانا ۔ کوفت کی یہ حالت ایک زندہ ضمیر کے لئے کانٹوں کی چادر کے مانند ہوتی ہے ، جسے نہ چاہتے ہوئے بھی اوڑھنا اک غریب زادی کا مقدر ٹھہرتا ہے ۔آج عالیہ کی زندگی کی بھی سب سے بڑی تمنا پوری ہونے کو ہے ۔عقیل کے بھائی کی جانب سے اس خوش آئین کام کو صرف نکاح کے ذریعے سر انجا م دینے پر زور دیا گیا۔۔ جس طرح ہر ماں باپ کے اپنے بچوں کے بارے میں کچھ ارمان ہوتے ہیں عالیہ کے ماں باپ کی بھی کچھ خواہشات تھیں اور انھوں نے نکاح کے ساتھ ایک مختصر سی بارات اور ولیمے کی رسم کا اصرار کیا ۔۔ بہر کیف نہ چاہتے ہوئے بھی رضامندی دے دی گئی ۔
رسمِ با رات عالیہ کے گھر والوں کی جانب سے بڑی گرمجوشی سے اداد کی گئی ۔ حق مہر پانچ ہزار روپے کسی خیرخواہ رشتہ دار کی طرف سے ادا کر کے عالیہ پنتیس سالہ انتظار کے بعد اپنے نصیب کے لکھے کے عین مطابق اس دو چھوٹے کمروں پر مشتمل کواٹر میں آگئی ، جہاں عقیل کے بڑے بھائی کے کمرے میں اُس رات کے گزارنے کا اہتمام کیا گیا۔۔ جس رات کی ہزاروں اُمنگیں ہر چاہنے والے کے دل میں اس بچے کی چاہت کی مانند ابھرتی ہیں جو اپنی پسندیدہ چیز حاصل کرنے کا مشتاق ہو !
ابھی گھر میں آئے کچھ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ایک عجیب ماحول نے اس پر رونق چہرہ لڑکی کا استقبال کیا ، مختلف صنف کی بلند اور کبھی دھیمی ہوتی آوازیں ،مرکزی دروازے سے اندر اور باہرجاتے قدموںکی سرگوشیاں، بے تاب اعصاب میں حسرت اور پر یشانی کا سحر وہ اس کمرے میں بھی محسوس کر سکتی تھی ۔’’گھر میں ولیمے کے لیے کچھ بھی نہیں ‘‘ عقیل الجھے ہوئے دماغ کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا کمرے میں داخل ہوتا ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد عالیہ اپنا وہ پرس عقیل کی جانب بڑھا دیتی ہے جو شادی کی سنہر ی شام اس کے بازو کا ہار بنا رہا تھا ۔

Loading Facebook Comments ...