خار از ارم خان

khaar by iram khan
مصنف:

جب دل ٹوٹتا ہے نا تو آنسؤں کا سیلاب اخلاقیات کے سارے بند توڑکر نکل پڑتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والے تمام درو دیوار کو نیست ونابوط کر دیتا ہے۔۔۔ کچھ ایسا ہی حال عنایہ کا ہوا تھا ، جب اس کا قائم کردہ آخری بھرم کسی انسان نے جھٹ سے توڑ کر اسے اپاہج بنا دیا تھا۔ پتہ نہیں ماں باپ اپنے تلخ تجربوں کی خار اپنے بچوں تک کیوں پہنچاتے ہیں۔۔۔ انھیں اس دنیا میں لا کر اپنے غصے کی مار کیوں مارتے ہیں۔۔۔ کیوں اس چھوٹے سے عمل سے اجتناب اس قدر مشکل ہوا چاہتا ہے ۔ نا انصافی والدین پر کسی صورت نہیں جچ سکتی اور اگر انہیں اس گھنوؤنے فعل کا مرتکب ہونا ہی ہے تو برائے مہربانی بچوں کو اس دنیا میں لانے سے اجتناب کریں ۔
عنایہ اپنے بستر پر لیٹی اپنے ذہن میں زہر اگلتے جملوں کی تردید کیے جا رہی تھی مگر اس کی آنکھیں اس تردید کا ساتھ ازل سے چھوڑ چکی تھیں۔ گرم گرم آنسوؤں نے اس کی نازک جلد کو گرما چھوڑا تھا وہ ہمیشہ کی طرح اپنے والدین پر سخت برہم تھی، جو محض اپنی کلاس میں دکھاوے بازی کی خاطر اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے پر بضد تھے ۔ ۔ ۔ اس کے والدین کی اس ضد نے اس کی عزت نفس اور وجود تک کی نفی کر دی تھی ۔ ۔ ۔ شاید یہ سب اس لیے تھا کہ وہ ڈاکٹری کے شعبے سے وابستہ نہیں تھی ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں قصور عنایہ کا تھا یا اس معاشرے کا جہاں پیدا ہوتے ساتھ ہی ہر بچے کے ذہن میں ڈاکٹر بننے کا خواب بوجھ کی طرح لاد دیا جاتا ہے اور وہ اپنی ساری زندگی اس خواب کو ہانکنے یا اس سے پیچھا چھڑانے میں لگا دیتا ہے ۔ ۔
بقا کی جنگ مشکل ترین ہے۔ آپ کا سانس گھٹ رہا ہو، لہو سوکھ رہا ہو، روح تار تار ہو رہی ہو مگر آپ کو جینا ہے ۔ ۔ ۔ آپ کو جینا ہے ان لوگوں کے لیے جن کی زندگی آپ کے مرنے کے بعد بھی معمول کے مطابق چلتی رہے گی ۔ ۔ ۔ مگر چونکہ آپ کو طبعی موت نہیں آ رہی تو آپ کو جیتے جانا ہے، روتے جانا ہے، اپنی ذات کو صحراؤں میں دفن کرتے جانا ہے ۔ ۔ ۔ مرنے کا اجازت نامہ تو پسند کی شادی کے اجازت نامے سے بھی مشکل چیز ہے ۔
کمرے میں عنایہ کا دم گھٹنے لگا تو وہ مغرب کے وقت ٹیرس کی طرف لپکی ۔ ۔ ۔ آسمان کی طرف نظریں آٹھائے وہ اپنے سوالوں کو جانچنے لگی ۔ ۔ ۔ شاید سبھی لوگوں کے ذہن میں اتنے سوال ہوتے ہیں یا یہ زحمت بھی تقدیر کا کرشمہ ہے ۔ ۔ ۔ خود سے سوال گھڑ کر جواب ڈھونڈنے والی عنایہ کی آنکھیں اب پہلے کی طرح روشن اور چمکدار نہ رہی تھیں، ان میں گہری تھکن تھی ۔ ۔ ۔ جیسے زندگی نے امید سے زیادہ طول پکڑ لیا ہو اور وہ نیند کی متلاشی ہو ۔ ایسی نیند جو تھکن کے ماروں کو کم ہی نصیب ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ باتونی عنایہ کی باتیں اب صرف سرگوشیاں تھیں، شاید یہ سرگوشیاں ان حالات کی دین تھیں جو عنایہ کے گرد تمام عمر سفر کرتے رہے۔ بار بار پلکیں جھپکاتے ہوئے اس کی نظریں ایک درخت پر ٹک گئیں اور پھر وہی گھسے پٹے سوالوں کے سلسلے نے اسے گھیر لیا ۔ ۔
تنے سے دور بھاگتی سبز شاخوں نے چند لمحوں کو اس کی آنکھیں ٹھنڈی کر دی تھیں ۔ میٹھی میٹھی سردی رومان پرور ہونے لگی ۔ درخت کو مخاطب کرتے ہوئے عنایہ چہک کر بولی ” تم جانتے ہو تنہائی دنیا کا بہترین رومانوی احساس ہے۔ ” درخت کی شاخوں نے ذرا سا جھول کر اثبات میں سر ہلایا ۔
چاند کی باریک سی کاش درخت کے دائیں جانب چمکنے لگی تھی اور عنایہ اپنے اندر کی کثافت بھلائے اپنے دل کی کھڑکیوں سے چاند کی چمک اپنے اندر انڈھیلنے لگی ۔ ۔ ۔ آہ! یہ فطرت کس قدر خوبصورت ہے ۔ ۔ ۔ کس قدر دل آویز ہے ۔ ۔ ۔ تو کیا یہ سارے بے سکونی کے مسائل انسانوں کے پیدا کیے ہوئے ہیں؟ کیا پچھلے دور میں بھی لوگ اس قدر عدم تخفظ کا شکار تھے؟ کیا آنے والے ادوار میں بھی یہ روایت برقرار رہے گی؟
شاید تکلیف کے بعد راحت، راحت کے بعد تکلیف کا سلسلہ ازل سے قائم ہے۔ امید کے مرکزی کردار بدلتے جاتے ہیں اور بارہا دل توڑتے جاتے ہیں، کرچی کرچی ہو کر جب اندر چوری بن جاتی ہے تو ایک لمحے کو پشیمانی کا اظہار کرتے ہیں، شرمندہ ہوتے ہیں اور پھر اگلے ہی لمحے اپنے اصل کردار میں ڈھل جاتے ہیں-
عنایہ کے دل میں نقش چند واقعات نے اسے مایوس کر دیا تھا۔ اٹھتے بیٹھتے اس کے کانوں میں آواز گونجتی رہتی کہ ” صرف تین نمبروں کی بنا پر وہ سکالرشپ سے محروم رہی تھی اور اسکا گھر اسے اس محرومی کا احساس دلانے والوں سے بھرا پڑا تھا” اسے رہ رہ کر اپنے بھائی کی غصے میں کہی جانے والی بات یاد آنے لگی تھی ۔ ۔ ۔ عاطف نے اسے جتایا تھا کہ وہ اکیڈمی جوائن نہیں کر سکا اور اسکی وجہ صرف اور صرف عنایہ ہے ۔ ۔ ۔ اگر عنایہ سکالرشپ حاصل کر لیتی تو عاطف اکیڈمی جا پاتا ۔ ۔
گاڑی کی بیک سیٹ پر بے چین اور گھبرائے ہوئے بیٹھے رہنے کا منظر اس کی نگاہوں سے اوجھل ہونے کو نہیں آ رہا تھا۔ اس کےوالد نے اسے بالواسطہ سرزنش کیا تھا۔
ڈینٹسٹ سے چیک اپ کرانے کے بعد عنایہ کو اپنے والد کے ساتھ اپنے کالج کے وکیل سے ملنے جانا تھا تاکہ وہ سکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے اپنی فیس پر ڈسکاؤنٹ کرا سکے۔ عنایا خود کو آگ کی بھٹی میں جلتا محسوس کر رہی تھی۔ عاطف بھی عنایہ کے ہمراہ تھا۔ عاطف نے جب والد صاحب سے سوال کیا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تو والد صاحب اونچی آواز میں غرائے، فرمانے لگے ۔ ۔ ۔ میں کالج والوں کی منت کرنے جا رہا ہوں کہ میری بیٹی سے غلطی ہو گئی ہے، جو اس کے تین نمبر سکالرشپ میرٹ سے کم ہیں سو برائے مہربانی ہمیں فیس پر ڈسکاؤنٹ کر دیں ۔ ۔ ۔ یہ سننا تھا کہ عنایہ کا چہرہ ذرد پڑ گیا اور وہ حواس باختہ اپنے والد کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ ۔ ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا، امتحان گزر چکے تھے ۔ ۔ ۔ نتیجہ بھی آ چکا تھا ۔ ۔ ۔ اب خود کو کوسنے کے سوا اور کوئی بھی چارہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ عنایہ کے والد ایک اچھے کاروباری انسان تھے ۔ ۔ ۔ ان کے اس قدر سخت الفاظ نے عنایہ کی روح کھینچ لی تھی ۔ ۔
آج جب آٹھ سال بعد عنایہ کے والد اس قدر بدل چکے ہیں کہ وہ پرایئویٹ میڈیکل کالج کی فیس دینے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں، جو کہ اس کی فیس سے دو ہزار گنا ہے تو اس کی روح مردہ ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ کون دے گا اس تذلیل کا حساب جو عنایہ کے حصے میں آئی؟ عنایہ کا قصوروار کون ہے؟ بہت بہادر بن کر، بہت زیادہ لڑائی کرنے کے بعد عنایہ اپنے چند حقوق کے حصول میں کامیاب ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مگر اب لگتا ہے کہ اپنے حق کے لیے لڑنے سے بہتر ہے اس حق کو چھوڑ دیا جائے ، تیاق دیا جائے ۔ ۔ ۔ جو رشتے محبت کے کونپل میں پلتے ہیں وہاں حقوق کی جنگ نہیں لڑنا پڑتی اور جہاں لڑنا پڑے تو اس سے بہتر ہے انسان روکھی سوکھی پر گزارہ کر لے ۔ ۔ ۔ حقوق کی جنگ میں برسائی جانے والی خار بہت لادین ہوتی ہے، یہ انسان کو شیطان بناکر ہی دم لیتی ہے ۔ ۔ ۔ اور جو خود کو اس سے بچا لے، تو اس سے بڑا صوفی کوئی نہیں ۔ ۔

Loading Facebook Comments ...