میں محبت، تو عشق، ھوخیال

9-02

بعض الفاظ گو کہ ہر خاص و عام کی زبان پر ہوتے ہیں لیکن اپنی ماہیت کے لحاظ سے تشنہء تعریف ہوتے ہیں جیسے لفظ خدا حالانکہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے لیکن اگر کسی سے پوچها جائے کہ خدا کا لفظ سنتے ہی آپکے ذہن میں کیا تصور آتا ہے تو ہر انسان کے پاس احساس و عقل سے جڑا مختلف اور نیا تصور ہوگا کسی کے پاس خدا علت العلل ہے تو کسی کے ہاں تجلی نور کسی کے نزدیک جلال محض ہے تو کسی کے ہاں جمال کل. یہی حال محبت کا ہے دنیائے احساسات میں ہر چند کہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے پهر بهی معنی طلب ہے اور مظلوم بهی۔۔۔ محبت احساسات کی سیڑهی کا چوتها زینہ ہے جس پر انسان میلان، رجحان اور انس سے ہو کر پہنچتا ہے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ لوگ جذبوں کے بہت ابتدائی کمزور زینے پر ہوتے ہیں جہاں تعلقات لڑکھڑا جاتے ہیں اور مورود الزام ٹهرائی جاتی ہے محبت. مبتلائے محبت و مدعی محبت میں فرق کرنے کے لیے جذبات کے درجات کو سمجھنا لازم ہے. محبت کو پھلنے پھولنے میں وقت لگتا ہے ورنہ ناپائیداری لازم ہے وقت سے پہلے پهلایا گیا محبت کا غبارہ غبار بن کر اڑ جاتا ہے. محبت جتلانے کی محتاج نہیں ہوتی اسے کچھ وقت درکار ہوتا ہے جو کہ اسے دیگر جذبات سے جدا و ممتاز کر دیتا ہے محبت سے آگے ضبط مسلسل کا سفر پر خار شروع ہوتا ہے جسے عشق کہتے ہیں. برادشت محض کا یہ عجب مقام ہے جہاں جفا کا صلہ دعا ہے بقول میر
کیا پوچهتے ہو عاشق راتوں کو کیا کرے ہے،
گائے بکا کرے ہے گاہے دعا کرے ہے،
یا فیض کے الفاظ میں:
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں،
ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے،
وہ عقل جو محبت میں عالم نزاع میں تهی یہاں آکر بلکل دم توڑ جاتی ہے یہاں عقل بس محو تماشہ ہوتی ہے اور عشق بسمل کو وہ قوت عطا کرتا ہے کہ تختہ دار پر بهی می رقصم کی صدا ابهرتی ہے. عربی زبان کے لفظ عشقہ جسکا مادہ ع ش ق ہے سے مشتق عشق کی لغوی معنی (آکاس/امر) بیل ہے جس طرح بیل جامد درخت کو اپنے گرفت میں لے کر سوکھا کر دیتی ہے ٹھیک اسی طرح عشق انسان کو اپنے مضبوط شکنجے میں جکڑ کر حرص، ہوس نفسانفسی کو ختم کر ڈالتا ہے یہ بات طے ہے کہ عشق و ہوس ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ہوس کی تو درجہ محبت تک بهی رسائی نہیں پهر بهلا عشق کا وار کاری اہل ہوس کب برداشت کر سکتے ہیں میر نے خوب کہا ہے:
جس دم کہ تیغ عشق کهنچی بوالہوس کہاں،
سن لیجیو کہ ہم ہی نے سینہ سپر کیا،
تاثیر کے لحاظ سے عشق و آتش کا بهی دلچسپ رشتہ ہے دونوں وجود کی ‘میں’ کو یا تو فنا کر دیتے ہیں یا کم از کم سخت جمود کو اتنا پگھلا دیتے ہیں کہ جس روپ میں چاہیں ڈهال لیں. عشق کے سوز بے پناہ میں پگھلا ہوا انسان اب ایک اور سفر شروع کرتا ہے جہاں لاحاصل ہی عین حصول ہوتا ہے اسے خیال کا سفر کہتے ہیں. حصول، محبت و عشق کو مکمل پرواز کرنے نہیں دیتا مجسم محوب کی محدود محبت یا عشق بے پناہ آخر حصول پر آکر دم توڑ دیتے ہیں مجسم محبوب کی محبت میں حصول چاہے کیسا بهی ہو جسمانی قرب یا روحانی طرب محبوب سے جڑا ہوتا ہے اسی لیے عشاق خیال لازوال کی جانب رخ کرتے ہیں یہاں حسی ادراک نہیں ہوتا کہ محبوب کیا چاہتا ہے کیونکہ محبوب محض خیال ہوتا ہے عاشق خیال سے ایسے جڑ جاتا ہے کہ اسے اپنا کردہ ہر عمل محبوب کی رضا لگتا ہے سچل سرمست کے مطابق:
میں تاں کوئی خیال ہاں،
مل ساں نال خیال دے،
اس لیے اول درجے کے عشاق و مجنوں عشق کے بعد مجاز سے تصوف کا رخ کرتے ہیں. یہاں بیخودی کا وہ عالم ہوتا کہ بقول سراج اورنگ آبادی نہ خرد کی بخیہ گری کی ضرورت رہتی ہے نہ جنوں کی پردہ دری کی. کہا جاتا ہے کہ مجنوں کے پاس جب لیلیٰ آئی تو مجنوں نے بجائے وصل کا نغمہ پڑهنے کے اسے کہا تو لوٹ جا اس وصل سے تیرے ہجر کا سوز مجهے عزیز ہے یہ جسم سے خیال کا سفر ہے جہاں دوئی ہے ہی نہیں محبوب آپ ہیں اور آپ ہی محبوب. مختصراً محبت سے ابتدا کرتی ‘میں’ عشق کے ‘تو’ سے ہوتی ہوئی جب منزل خیال تک پہنچتی ہے تو ایک ہی صدا بلند کرتی ہے. ..هو هو هو.۔۔۔

Loading Facebook Comments ...