آہ! میرے قوم کے معمار از سدرہ صنم

Qoum Kay mamaar Sidra Sanam

میں بچپن سے ہی سنتی آرہی تھی کہ قوم کا مستقبل ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ہمارے نوجوان ہمارے قوم کے معمار ہیں۔یہی ہیں وہ بنانے والے جو ہاتھوں میں اوزار لئے ہمارے قوم کے نقشے کی تعمیر کریں گے۔ ایسی تعمیر کہ یہ عمارت بھی سارے قوموں کے درمیاں فخر سے سر اونچا کر کے کھڑا ہو سکے۔ اس قوم کے نمائندےبھی سب کے درمیان اونچے سر کے ساتھ کھڑے ہو کے کہ سکے کہ ہاں!میں ہو اس قوم کا نمائندہ اور مجھے اپنے آپ پہ فخر ہے۔پھر میں نے سوچھا تھا کہ ایسا کیا کرے گےہمارے نوجوان جو ہمیں سب کے درمیان ایک اونچا مقام دیں گے اور الگ پہچان دیں گے۔ دنیا کی اس تیز رفتاری کے ساتھ مقابلہ کر کے زور بازو سے اپنی پہچان بنائے گے۔ ایسی کونسی طاقت ہوگی انکے پاس اور وہ طاقت کہاں سے آئے گی۔ تب ہی علامہ اقبال کی مشہور زمانہ شعر میرے سامنے آیا تھا۔
عقاب روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے انکو اپنی منذل آسمانوں میں
اس وقت مجھے خوشی کا احساس ہوا تھا۔ یہی تو ہےوہ قوت۔ جسے اپنے اندر ڈال کے دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔ اور کیسے آئے گی یہ انسان کے اندر۔ تو جب اپنی ذات کی پہچان، اپنی منزل کی پہچان ، اپنی زندگی کا مقصد ان سب کی پہچان آئے گی۔ تو عقاب جیسی روح خود بخود روح کے اندر سمو کر خون میں رچ بس جاتی ہے۔ پھر جن میں یہ سب آجا تا ہے وہ ایک نقطہ پہ ساکت نہیں رہتا۔دور فلک پہ جا کر ستاروں کے پار اپنے منزلوں کو کھوجنے نکل پڑتے ہیں۔ اور جو اپنی ذات کی پہچان پاکر عقابی روح کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔تو اس نوجوان کا قوم کیسے فخر سے سر بلند نہیں کر سکے گا،اس معمار کی عمارت کیسے ایک نئی شان سے سب کے بیچوں بیچ درخشاں ستارے کی مانند نہیں چمکے گی۔ اور اس ستارے کی چمک کیسے دوسروں کی آنکھیں خیرہ کر کے انہیں جھکانے پر مجبور نہیں کرے گی۔ میرے قوم کے نوجوان کے پاس اونچی منزل کے پانے کا جنون اعلیٰ عزائم اور ستاروں کو چھونے کی جو ناقابل شکست قوت ہوگی،اس سے وہ کیسے دنیا فتح نہیں کر سکے گا۔ تب میں اپنی قوم کو اس کے معماروں کے ہاتھ میں دیکھ کر سکون کی نیند سوئی تھی۔ وقت نے پہیے لگا کے دوڑ لگائی تھی اور مجھے نئی صدی کے اس نئے چیلینجز والے دور میں ایک جھٹکے سے اتار دیا تھا۔ زمانہ اور زمانے کے لوگ ان نئے تقاضوں کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے ترقی کے رواں میں بہت آگے تک بہتے گئے تھے۔ میں نے اردگرد پٹپٹاتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ 2018 تھا۔ ہر سو تیزرفتاری دکھائی دے رہی تھی۔دنیا مریخ پر پہنچ گئی تھی ،چاند پہ محل بنانے کی کوششیں جاری تھیں،سائنسدان عقل کو دنگ کرنے والے ایجادات کر کے مطمئن نہیں تھے،کہ تحقیق، علم اور کوشش کے میدان میں اطمینان حاصل ہونے کا مطلب انتہا ہے جہاں پہ رکا جاتا ہے اور بھلا علم و تحقیق کی دنیا میں انتہا، سکوت اور سفر کے اختتام جیسے الفاظ کا وجود کہاں ہوتا ہے۔ دنیا کی نت نئی چیلنجز اور اسکےاتنے بہت آگے تک کئے گئے سفر کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے مجھے اپنے قوم کا خیال آیا۔ ہر طرف کےاس تیز رفتاری اور ترقی کی راہ میں مسابقت کی دوڑ لگانے والو کی لکیر میں میرے قوم کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ تو مجھے اس کی کھوج میں نکلنا پڑا تھا۔ میں ویسے بھی ایک خیالی کردار تھی اس لیے کسی بھی جگہ پہ جا کر اسے ڈھونڈنا میرے لئے مشکل نہیں تھا۔ پہلے میں نے دنیا کے چند عظیم الشان سائنسی اداروں میں نئے تحقیقات اور تجربات میں غرق سائنسدانوں کے بیچ اپنے قوم کی نشانیوں کی سراغ لگانے کی کوشش کی تھی۔ اپنی ذاتی مفاد، ذاتی سکون کو پس پشت ڈال کرلا زوال مقصد کےلئے کام کرنے والوں ان خاص لوگوں کو میں نے بہت امید،ولولہ اور خوف سے دیکھ کر ان کو پہچاننے کی کوشش کی تھی۔ اور یہ دیکھ کر میری امیدوں کا محل چکنا چور ہوا تھا کہ وہ جگہیں وہ لوگ اور وہ کام میرے قوم کے نوجوانوں سے نابلد تھیں۔ پھر میں ادب،فن، تخلیق کے کیٹگریز میں صفحے اول کا کردار ادا کرنے والی قوموں کے ناموں کی فہرست کے پیچھے بھاگی تھی۔لرزتی انگلی سے میں نے فہرست میں موجود ناموں کو چن چن کر دیکھا تھا لیکن یہاں بھی میرے قوم کی کوئی پہچان نہیں تھی۔وہ فہرست اور ان پہ درج نام میرے آنکھوں میں چھب گئے تھے۔ پھر سارا سارا دن میں کسی بھی قابل فخر اور اونچی شان والے درجوں میں اپنے قوم کا نام اور اس کے مقام کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جب تک ہار کر واپس لوٹی تو میں تہی دامن تھی۔مجھے اپنی قوم کا نہ ہی کوئی نام ملا تھا نہ میں اس کے مقام کا پتا معلوم کرسکیں تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ میں لاپتہ ہونے کا اشتہار دے دو کسی سے پوچھو کسی سے کہوں کہ مجھ سے میرے قوم کا پتا کہیں گم گیا ہے۔ مجھے نہیں پتا میرے قوم کانام ریپوٹیشن کے کس نمبر پر آتا ہے معیار کی کن گلیوں میں پایا جاتا ہے ۔ تب میرے ذہن میں ایک جھماکا ہوا تھا مجھے یاد آیا ،میری قوم کا نام تو امانت تھا کسی کے پاس،اس قوم کے نام اور اس کی پہچان،اس کی عزت، اس کی عظمت کی امیدیں سینت سینت کر رکھتے ہوئے ہم نے کسی کے ہاتھوں میں امانت کے طور پر دی تھی۔اس عمارت کو تو ہم نے اس کے معماروں کے ہا تھوں میں دیا تھا ۔ کہاں گئے وہ معمار، کہاں گئے ان کے زور بازو کے وہ ہتھیار جس پہ انہوں نے میرے قوم کی عظمت کو شاہکار بنا کر ، چمکا کر سب کی آنکھوں کو خیرہ کرنا تھا۔ میں پاگلوں کی طرح دوڑی دوڑی معماروں کے پیچھے بھاگی تھی۔ دیکھنا چاہتی تھی انکو اپنی امانت سے زیادہ، اپنے مقدم فرض سے زیادہ کس چیز نے اپنے اندر الجھایا تھا۔ کہاں منہ چھپائے بیٹھے تھے وہ، بے فکری اور گمنامی کے کن اندھیروں میں محو استراحت تھے، آنکھوں پہ ایسی کونسی پٹیاں بندھی تھی جو انکی بصیرت کو اس درجہ گٹھا گئی تھی۔ کہ انکو اپنی پستی تک دکھائی نہیں دیتی تھی۔ سر پہ پڑی اپنے قوم کے ان امیدوں کا بوجھ دکھائی نہیں دیتا تھا، جو قوم ان سے لگائی بیٹھی تھی اور میں ٹوٹتے بکھرتے ،اپنی گمنامی کا غم مناتے اپنے پہچان کو کھوئے ان معماروں کو دیکھنے گئی تھی۔ جو کہ آج کے 2018 کے دور میں جہاں دوسرے قوم کے کچھ جانباز پیٹ اور ذائقے کی فکر سے لا تعلق اپنے منزل پہ نظریں جمائے انکو پا لینے کی مشقت میں ، اپنے قوم کے ناموں کو ایک نئی شناخت دینے، ایک درجہ مزید آگے لے جانے کی کوششوں میں گم تھے۔وہاں میرے قوم کے گم گشتہ رہ کس حال میں اور کیا کر رہے تھے۔ اور آخر کار میں نے اپنے قوم کا وہ”معمار” ڈھونڈ لیا تھا۔ جس کےلئے علامہ اقبال نے عقاب روح جیسے طاقت پانے کی ترغیب دی تھی۔ آ ج وہ معمار اس حالت زار میں بیٹھا تھا۔ کہ اس کے بدن پر موجود اس کا لباس اس کا اپنا نہیں تھا۔ میں نے دکھ کے آخری حدوں سے گزرتے ہوئے یہ سوچھا کہ کیا یہی ہے وہ معمار جس سے میں قوم کی عمارت کو انوکھا رنگ اور الگ شان دینے کی امید کر رہی تھی۔جس کا لباس بھی اسکا اپنا نہیں ہے۔
تب کسی نے کہا تھا۔ اس کے پاس اسکے اپنے کپڑے بھی ہے۔ لیکں یہ جو بناتا ہے وہی پہننا پسند نہیں کرتا۔ اسکے لئے یہ باعث فخر ہے کہ یہ کسی دوسرے کے نام سے بنی ہوئی پہچان کو اپنے تن بدن پہ زیب تن کرے۔ کیونکہ بقول اسکے اس سے وہ اعلیٰ شان والا رتبہ حاصل کرے گا۔
میں یہ سوچ کر دنگ رہ گئی۔ کہ جو قیمت یہ اپنے عمارت پہ اپنے سر پر بچھی بوسیدہ چھت پہ لگا کر اسکی ھلکی پھلکی مرمت کر سکتا ہے۔ وہی قیمت وہ کسی دوسرے کو دے کر اپنے ٹوٹے پھوٹے چھت کی مزید توڑ پھوڑ کرنے کےلئے ادا کر رہا ہے ۔ وہی قیمت لینے والا اسی کی قیمت پر مضبوط ہوکر اسی کے سر پر ڈنڈے برساتا ہے۔ خیر اس کی اس قدر کم عقلی پر ماتم کرتے ہوئے میں نے اس کی مصروفیات کو کھوجنے کی کوشش کی، اس کی مطمع نظر،اسکے سوچوں کو جاننے کی خبر لی۔ اور وہاں مجھے یہ خبر ملی کہ اسکی زندگی کی سب سے بڑی جمع پونجی اسکے ہاتھوں میں موجود ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا۔ اور اسکی سب سے بڑی کامیابی اس ڈبے میں موجود اسکے لئے آکسیجن کا کردار ادا کرنے والے سوشل میڈیا نیٹ ورکس تھے۔ اور ان اہم عاملات میں قابل ذکر ایک “فیس بک” کے نام سے تھا۔ کامیابی اس طرح کہ دن بھر وہ کیا کرتا ہے، کیا کھاتا ہے، کس کس برینڈ کے لباس اپنے جسم پر سجا کر پھرتا ہے ، کس کا سٹائل ایک ادا سے اپناتے ہوئےے پتہ نہیں کس قوم کی محنت اور نام سے بنی ہوئی گاڑی میں بیٹھ کر کہا جاتا ہے۔ ان سب کی تصویریں بناکر فیس بُک پر ڈال کر اسے جتنا سراہا جاتا ہے وہ ساری تعریف و ستائش ایک انگھوٹے کی شکل میں جمع ہو تے رہتے ہیں۔ اور جن کے پاس جتنے زیادہ انگھوٹے(likes) جمع ہو جاتے ہیں۔ اتنا ہی وہ خود کو بڑا ہیرو اور کامیاب شخص سمجھنے لگتا ہے۔ اسی طرح میں نے ان “معماروں” کے ہاتھوں میں ایک بلکل نا قابل توقع اور اس نئے ہتھیار کو دیکھا اور انکے ذہن میں گھسنے کی کوشش کی۔
کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کونے میں کچھ نہ کچھ بھولے بسرے منزل اور کسی مقصد کی طرف عازمِ سفر ہونےکی کوئی لگن کوئی چاہت تو ہوگی۔ اسی لمحہ میں نے اس”معمار” کے ذہن میں ایک سپارک نمودار ہوتے دیکھا۔ اور میں نے ہلکے ٹمٹماتے امید کی روشنی میں خود کو ڈوبتے ابھرتے اس اچانک ابھرنے والی سپارک کی وجہ تلاشنے کی کوشش کی۔ اور تب ہی اس کی خوشی کی وجہ جان کر میری بچھی کچھی روح بھی نکل گئی تھی۔
وہ اونچا لمبا تڑنگا “معمار” ایک نازک پری کے نام کا اکاؤنٹ بنائے ایک لڑکی سے “فیس بُک” کے ذریعے قریب ہونے کی کوشش میں تھا۔ اور بالکل ابھی ابھی بے حد کوششوں، مشقت آمیز انتظار کے بعد اس نازک پری نے اوس نازک پری کو اس مقام پہ پہنچا دیا تھا۔ کہ وہ اب اس سے علیحدہ ہونے کا تصور نہیں کر سکتی تھی۔ یہ اظہار ابھی ابھی ہوا تھا۔ بقول اوس پری کےانکے روح اب ایک ہو چکے ہیں۔ اور اس “معمار” کی مسرت اور اطمینان کا نتیجہ یہی تھا اور میرے روح نکلنے کا ذریعہ بھی یہی۔ جاتے جاتے میں نے دیکھا تھا کہ اوس دوسری پری کے ذہن میں بھی کچھ ایسی ہی چنگاریاں پھوٹ رہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ انکے روح ایک ہیں اسلئے کہاں تھا کیونکہ یہ نہیں جانتے تھے۔ کہ انکے صنف بھی ایک ہی ہیں۔ ماشاءاللہ سے وہ دونوں ہی قوم کی بیٹیاں نہیں بلکہ قوم کے “معمار حضرات” تھے ۔ جنکے پیچھے میں پتہ نہیں کن کن احساسات سے گزر کر آئی تھی۔ اور انکی حالت دیکھ کر تو مجھے جو لگا وہ یہی کہ، جو فرض سونپا گیا تھا۔ وہ الٹ گیا ہے۔ اب یہ قوم کو نہیں بنائیں گے بلکہ خود انکو تعمیر کرنے کی اشد ترین ضرورت ہے۔میں ویسے بھی اس قسم کے دگرگوں حالات کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اچھا ہوا مر گئی۔ اس افسوس کے ساتھ ۔
آہ! میرے قوم کے معمار,
آپ سب میری روح کے لئے اور ان معماروں کی ضمیر کے لئے (rest in peace) ایک ساتھ بولیے گا۔

Loading Facebook Comments ...