محبت کا کرب

Mohabbat ka Karb

نا ئیلہ کیمسٹری میں ایم ایس سی کرنے کے بعدجلد ہی ایک میڈیکل کمپنی سے منسلک ہو گئی تھی اور اپنی زندگی سے مطمن تھی ۔کمپنی میں مارکیٹنگ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے کارکردگی کی بنا پر اعلیٰ عہدہ بھی حاصل کر لیا تھا لیکن والدین کے اصرار کے باوجود شادی کا ارادہ نہیں رکھتی تھی ۔
ایک دِن نائیلہ دفتر میں بیٹھی تھی کہ اچانک دفتر میں ایک واضح دار شخص داخل ہوا جس نے سفید شرٹ پرہلکے نیلے رنگ کی نیک ٹائی لگائی ہوئی تھی اور گہرے نیلے رنگ کا خوبصورت پینٹ کوٹ زیب تن کی ہو اتھا ۔ قدرتی طور پر وہ سیدھا نائیلہ کے پاس ہی آیا اور آداب کر کے پوچھا کہ اُس کے متعلق آپکو ای میل آگئی ہو گی۔وہ بولی ” جی! آپ عدنان خان” ۔وہ بولا جی آپکی کمپنی کا نیا نمائندہ۔
عدنان اپنی دوستانہ گفتگو اور روئیے سے اگلے چند دِنوں میں دفتر کے سٹاف سے گُھل مل گیا اور اس دوران نائیلہ سے بھی اُسکی اچھی خاصی جان پہچان ہو گئی ۔ نائیلہ محبت وپیار وغیرہ سے دُور رہنا چاہتی تھی کیونکہ وہ کامیابیوں کے زینے چڑھتے ہوئے اُس مقام تک پہنچ چکی تھی جہاں اب کچھ کر کے دکھانا ہی اُسکا خواب تھا۔
اوہ! خواب کیا وہ ٹوٹ گیا ؟رات وہ کمرے میں لیمپ کی روشنی میں بیڈ پر لیٹے ہو ئے سوچ رہی تھی۔یہ کیسی سوچ اور آنکھ لگ گئی اور پھر اُسکو لگا کہ چند لمحوں بعد ہی آنکھ کُھل گئی ہے ۔اوہ!یہ کیسا خواب تھا؟نہیں ! ہاں!نہیں؟ موبائل اُٹھایا اور آدھی رات کو اپنی بچپن کی سہیلی صوفیہ کو فون کر کے اپنا حال بتا دیا۔
دفتر میں عدنان صاحب کے سامنے کھڑی نائیلہ کی سہیلی صوفیہ اپنا تعارف کروا رہی تھی اور نائیلہ کُرسی پر بیٹھے شاید پہلی دفعہ شرماتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔ صوفیہ نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدنان صاحب آخر آپ نے نظروں کے تیر چلا ہی دیئے۔ عدنان معاملے کی نوعیت جان چکا تھا۔ ہلکا سا قہقہ لگا کر بولا ” اب والدین کو کب بھیجوں”؟صوفیہ نے بھی بڑی آزادانہ مسکراہٹ میں جواب دیا “میرے گھر نہیں اُسکے گھر۔
شادی کوپانچ سال ہو چکے تھے اور عدنان و نائیلہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ایک بہترین سوسائٹی کے خوبصورت سے ذاتی گھر میں زندگی گزار رہے تھے ۔ نائیلہ بچوں کی خاطر ایک گھریلو خاتون بن چکی تھی ۔لیکن اب تک عدنان کی شخصیت کے آگے وہ یہ فیصلہ نہ کر پائی تھی کہ کیا اُس نے واقعی ـ”محبت کی شادی” کی تھی یا وقتی” سحر یا بھوت” تھا جسکی لپیٹ میں آکر وہ ۔ وہ کیا؟
محبت تھی ۔وہ اپنے دِل کو دِلاسہ دے رہی تھی ۔ہاں مجھے اُس سے محبت تھی۔ اُسکی باتوں سے ، اُسکی وجاہت سے ،اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محبت بھرے انداز میں چٹکی بجاتے ہوئے چٹکلا سُنانے سے۔ہاں میری پسند کی شادی میری محبت ہی تو ہوئی ۔لیکن کیا عدنا ن کو مجھ سے محبت ؟ یہ میں کیا سوچ رہی ہوں؟
موبائل کی گھنٹی بجی اور ہیلو کہنے پر دوسری طرف سے صوفیہ بولیـ” سُنائو کیا حال ہے” ؟نائیلہ بولی “سب ٹھیک۔تم سُنائو” ۔صوفیہ بولی ” تمھیں ایک اہم خبر دینی تھی عدنان نے اپنی آفس کی موجودہ سیکرٹری سے دوسری شادی کر رکھی ہے”۔کوئی اور بیوی ہوتی تو وہ ایک دم چکر کھا کر گِر جاتی۔لیکن نائیلہ نے بڑے حوصلے سے صوفیہ سے بات جاری رکھتے ہو ئے معلومات حاصل کیں اور پھر فون بند کر کے صوفے پر مدہوشی کی حالت میں بیٹھتے ہوئے پہلے اپنے دو بچوں کے بارے میں سوچنے لگی۔پھر اگلے چند لمحوں میں آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
کیا سوچوں ؟ کیا کروں ؟ ہائے میرا سرگھوم رہا ہے۔کیا محبت گئی یا سہارا گیا؟محبت تھی تو مجھے نہ چھوڑتا۔ سہارا تھا تو بچوں کو نہ چھوڑتا۔ محبت بھی تو خود ایک سہارا ہے اور مرد تو کبھی ایک سہارے پر قناعت نہیں کرتا،چھوٹے چھوٹے کئی سہاروں کا مندر تعمیر کرنے میں ہمیشہ جُتا رہتا ہے۔ انہی سوچوں میں گم تھی کہ عدنان نے لیونگ روم داخل ہوتے ہوئے آواز لگائی ۔
نائیلہ ۔۔یہ کیا آواز میں آج بھی پہلی جیسیـ” میٹھاس” ۔دِل پر لگی اور آنکھ سے آنسو کا قطرہ زمین پر۔ سامنے کھڑے ویسے ہی “سمارٹ” ۔ دِل سے آواز آئی ۔ہائے۔ “کاش آپ ایسا نہ کرتے”۔
“کیا ہوا ؟ کچھ نہیں۔ بچے کہاں ہیں؟ اُوپر ایک پڑھ رہا ہے اور ایک حسب ِمعمول آئی پیڈ پر”۔
بیٹھ جائیں ۔مجھے صوفیہ نے بتا دیا ہے۔
“اب تم حسب ِروایت سوال پو چھو گی” ؟ عدنان بولا۔
نہیں۔ ہاں یہ پوچھوں گی۔ کیا میرے پیار و محبت میں لغزش نظر آئی؟یا خدمت میں کمی؟ پھر عدنان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر مُنہ دوسری طرف کر کے آنکھیں بند کر لیں۔لیکن آنکھوں سے وہی جھلکتے آنسو ۔ہائے یہ کیسے رُکیں گے؟ عدنان کو نائیلہ کے دُکھ کا احساس ہو گیا تھا لیکن وہ لاجواب تھا۔
نائیلہ بولی ” آپ جانتے ہیں میں ایک ڈرپوک لڑکی تھی اس لیئے پیار محبت سے بھاگتی تھی۔ لیکن جدید دُ نیا کی رعنائیوں سے لُطف اندوز ہو رہی تھی۔آپ آئے نظریں ملیں محبت کر بیٹھی۔نادان نہ تھی پر نادانی کر بیٹھی ۔ پھر وہ خاموش ہو گئی”۔
دونوں آنکھوں سے آنسو نکل کر بائیں طرف بہہ رہے تھے۔ عدنان خاموش تھا لیکن نائیلہ کے آنسو برداشت نہ کر پا رہا تھا۔دونوں ہاتھوں سے چہرہ اپنی طرف موڑ کر آنسو صاف کرنے کیلئے نائیلہ کی آنکھوں پر انگلی رکھی تو وہ گھبرا گیا۔نائیلہ ۔نائیلہ ۔۔کیا ہوا؟
“محبت کا کرب کہ دِل بھی ساتھ چھوڑ گیا”۔

Loading Facebook Comments ...