پانچ روپے ۔ افسانہ

mazdoor 3

دسمبر کی آٹھویں روشنی تھی، دوپہر کے کھانے کا وقت زیادہ دور نہیں تھا اور سورج ابھی تک آسمان میں دھند اوڑھ کر سو رہا تھا۔ معلوم نہیں وہ آسمان میں نکلا بھی تھا یا کسی اور وجہ سے روشنی تھی، مگر سب اِس اُمید سے کام میں جُتے ہوئے تھے کہ سورج اُن کے اوپر موجود ہے۔ وہ سورج ہی تو ہے جس کی روشنی سب کو کام کرنے پر اُبھارتی ہے۔ یہ اُجالا سب کو ایماندار رہنے اور انجمن کی وساطت مہیا کرتا ہے، اور اِسی اُجالے میں سب کام کر رہے تھے۔
’’مسالا لیا وئی۔‘‘
طفیل سیمنٹ ریت اور پانی کا آمیزہ جسے مستری مسالا کہتے ہیں لے آیا۔
’’اَیتھے رکھ دے۔‘‘
مستری صاحب نے حکم جاری کیا، طفیل نے تسلے کو معمار کے قدموں میں رکھ دیا۔ بھولے مستری نے ایک کانڈی (کرنی) مسالے سے بھری۔۔۔
’’پاں ڑیں پھڑ کاکا۔‘‘
وہ پانی لایا۔
تیشی پکڑا۔۔۔
طفیل نے سر جھکایا اور بکھری ہوئی اینٹوں میں دائیں بائیں تیشی ڈھونڈھنے لگا۔
تیشی مل گئی تو اُستاد جی کے ہاتھ تھما دی۔ اُنہوں نے ایک اینٹ کاٹی۔۔ ٹھک ٹھک ٹھک۔۔ اینٹ کی اضافی کنکریاں اینٹ سے الگ ہو کر ادھر اُدھر بکھر گئیں۔ کاریگر نے دیوار پر رکھے مسالے پر آدھی اینٹ رکھی۔ کرنی کے دستے سے آدھی اینٹ کو دیوار پر برابر کیا۔
’’صال پھڑ کاکا۔‘‘
بکھری ہوئی اینٹوں کے درمیان سے اُس نے ’’صال‘‘ نکالی اور اُستاد جی کے ہاتھ لگا دی۔ اس کے بعد ’’سوتلی‘‘ بھی تان لی گئی۔
’’اِٹاں پھڑ چھوٹے۔‘‘
وہ ایک ایک کر کے اینٹیں پکڑاتا جاتا اور بھولا مستری جو نیا نیا ٹھیکیدار بنا تھا دیوار پر رکھتا، ایڈجسٹ کرتا اور مسالے سے جوڑتا جاتا۔ ایک وار، ایک لائن، ایک سطرِ دیوار مکمل ہوئی۔
پھر دوسری بحرِ دیوار میں یہی بھاگ دوڑ۔۔۔ اینٹوں کی کئی لائنیں دیوار کا روپ دھار رہی تھیں اور تر اینٹیں ایک ایک کر کے دیوار میں چُنی جا رہی تھیں، پیچھے پڑا مسالا سوکھتا اور کم ہوتا جاتا۔ ٹھیکیدار من ہی من میں سوچتا کہ نائیک آتے ہیں تو اُن سے دو ہزار ڈیمانڈ کروں گا۔ دیوار اُس کے شانوں کے پاس پہنچنے کو تھی تو اُسے خیال آیا کہ اگر تین ہزار مانگ لوں تو نہیں ملیں گے؟
اُس نے کچھ سوچا اور مسکرا دیا، پھر آہستہ سے منمنایا۔۔۔ ’’ضرور ملیں گے۔‘‘ اچانک اُس نے مڑ کر دیکھا تو طفیل ہانپتا ہوا بیٹھ کر پانی کا گلاس منہ لگانے لگا۔
’’چار اِک دا مسالا تیار کر، دو گٹو سیمنٹ۔‘‘
طفیلے نے بھاگ دوڑ کا پسینہ ماتھے سے صاف کیا۔ گلاس دیوار کے ساتھ رکھا اور تسلہ اُٹھا کر سیڑھیوں سے نیچے اُتر گیا۔ تھوڑی دیر بعد، امہ امہ۔۔۔ ہاہ۔۔۔ امہ کرتا ہوا سیڑھیوں سے چھت پر نمودار ہوا۔ اُس کے ماتھے پر ایک بار پھر پسینہ تیر رہا تھا۔
معمار جو ایک طرف کھڑا تھا، نے سگریٹ منہ سے نکالا۔۔۔
’’جلدی کر پیارے! پیڈ وی تیار کرنا ای۔۔‘‘
وہ چوبیسویں بار جب تسلہ سر پر اُٹھائے چھت پر ظاہر ہوا تو اُس کی سانسیں اُکھڑ چکی تھیں۔ اُس نے ایک نظر استاد کی طرف دیکھا۔ وہ اُسے بڑی بیزاری سے دیکھ رہا تھا، جیسے اُس نے بہت تاخیر کر دی ہو۔
وہ ریت کی ڈھیری پر بیسواں تسلہ گرا کر دو گھونٹ پانی کی طرف بڑھا۔
پانی پی کر وہ سیمنٹ کے تھیلے لایا جو اُس نے ریت کے ڈھیر پر گرائے، پھر تھیلے ایک سائیڈ سے پھاڑ کر سیمنٹ ریت کے ڈھیر پر بکھیر دیا۔ اس کے بعد وہ بیلچے سے ’’کلٹی‘‘ کرنے لگا۔ بیلچے کو ریت سیمنٹ سے بھرتا اور ایک ہاتھ کے فاصلے پر سوِنگ کر کے گرا دیتا۔ یوں ساری ڈھیری ایک ہاتھ کے فاصلے پر منتقل ہو گئی، اِسی طرح ریت سیمنٹ کی نقل مکانی تین بار ہوئی، پھر لمبے دستے والے بیلچے سے اُس ڈھیر کو ڈھیر کیا گیا جو ایک بڑے سے پیالے کی شکل اختیار کر دیا گیا۔ موٹر چلی اور وہ پیالہ پانی سے بھر گیا، اتنے میں دوپہر اور دوپہر کا کھانا آن پہنچا، نائیک کے گھر سے کھانا آیا جو ٹھیکیدار نے منگوایا تھا۔ دو دو روٹیاں اوپر نیچے نوالہ در نوالہ پیٹ رسید کی گئیں اور بِلا تاخیر مستری جی نے اپنے مزدور کو پیڈ تیار کرنے کا حکم جاری کیا، اور یوںہی یکے بعد دیگرے حکم در حکم جاری ہوتے اور اُن کی تعمیل ہوتی، اُدھر سورج اپنی سُست رفتار سے مغرب کی طرف رواں تھا۔ دِن تو گزر ہی جانا تھا اور دِن گزر ہی جایا کرتے ہیں۔ غرباء کے حالات نہیں بدلتے اور نہ ہی اُمراء کے حالات بدلا کرتے ہیں، ذرا قریب سے دیکھا جائے تو اِن لوگوں کو اپنے حالات بدلنے کی فکر اُن لوگوں سے نسبتاً کم ہی ہوتی ہے جو نہ تو امیر ہوتے ہیں اور نہ ہی غریب۔۔۔ ایسے لوگوں میں لومڑی صفات افراد جلد امیر ہوتے ہیں۔ امارت کے اِسی چکر میں عمارت کا ڈھانچہ تیار ہو رہا تھا۔ ایک کے بعد دوسری اور تیسری دیوار آدھی نیچے والی مکمل اور اوپر والی رہ گئی تھی۔
’’چھٹی اُستاد جی!‘‘
’’ٹھیر جا۔۔! اے مسالا ختم تے چار اِٹّاں پھڑا۔‘‘
مغرب سے مولوی نے بوقت مغرب لائوڈ سپیکر میں ٹن ٹن کی۔
’’اب چھٹی۔۔‘‘
’’ہاں چھٹی‘‘
’’دیہاڑی؟‘‘
’’نائیک نہیں آیا۔۔ تیرے سامنے ہی اے۔‘‘
طفیلے کا چہرہ لٹک گیا، اُس نے ہاتھ پیر دھوئے اور چل دیا۔ ٹھیکیدار نے نائیک کو فون لگایا۔
’’جی سلاما لیکم! میں انتظار کر ریا ہاں۔۔ پنج ہزار لے آؤ۔‘‘
اندھیرا بڑھ رہا تھا۔ طفیل اپنے گھر کی جانب بڑھ رہا تھا، وہ جمال ٹاؤن کی طرف اُس راستے پر اُس چوک پر پہنچا جہاں سے دایاں راستہ کشادہ اور بایاں تنگ تھا، دائیں راستے میں تین چار فیکٹریاں اور بائیں راستے میں ایک پرانے سے گھر پر شادی کی سستی بتیاں جل رہی تھیں، وہ دائیں بائیں دیکھ کر اپنی بغلوں میں ہاتھ دیئے آگے بڑھ گیا۔ سواریوں پر سوار اپنے گھروں کو جا رہے تھے، کئی سواریاں، کئی رکشے اُس کے دائیں بائیں سے گزر گئے۔ گاؤں جمال ٹاؤن سے قبل کچھ فیکٹریاں آئیں، جہاں دو موٹر سائیکل اپنے سواروں کے ساتھ موجود تھیں۔ وہ آپس میں کسی قسم کی گفتگو میں محو تھے۔ وہ اُن کے پاس سے پہنچا تو اُنہوں نے طفیل کو پستول دکھائی۔
’’نکال دے جو کچھ ہے۔‘‘
وہ خامشی سے کھڑا رہا۔
نکال۔۔
اُس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں تو اُس کی جیب سے پانچ روپے کا سکّہ برآمد ہوا۔
ایک وارداتیے نے دوسرے ڈکیت کی طرف دیکھا، پھر پانچ روپے کا سکہ دیکھا، ایک قہقہہ بلند ہوا، پھر گولی چلی اور اُس کے بعد کسی نے کچھ نہیں دیکھا۔

Loading Facebook Comments ...