پیٹ کا پاتال

pait ka pataal by iram khan
مصنف:

پاتال بھی کتنا خوبصورت اور گہرا لفظ ہے، جس کے معنی جہنم اور دوزخ کے ہیں (لغت جیب میں رکھنے والے اسے زمین کے سات طبقوں میں سب سے نیچے کا طبق بھی کہتے ہیں)۔ اگر اس لفط کے ساتھ پیٹ کا رشتہ قائم ہو جائے تو یہ نہلے پہ دہلا ہے۔ بھوک اور اس کی شدت کا اندازہ مڈل کلاس فیملیز میں عموماً پرہیز کے وقت ہی لگایا جا سکتا ہے ۔ مگر کچھ لوگ جو نوازے جاتے ہیں ان پر بھوک برداشت کرنے کی رحمت تب بھی اترتی ہے جب ان کی انا پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے اور وہاپنی انا کو توڑنے کی بجائے کاغذ اور قلم پکڑے اپنی ناکامی کے شاہکار تحریر کرنے لگتے ہیں کہ شاید اس عمل سے ان کے پیٹ کی آنتوں کو تھوڑی تسلی ہوگی کہ شاید اس نام نہاد مزدوری کے بعد کوئی اجرت ملے گی یا پھر شاید اپنا پسندیدہ ترین کھانا نوش فرمانے کو ملے گا۔ اس افسانے کو پڑھنے والے یقیناً یہ جان کر مسکرائیں گے کہ بندوبستی خاندانوں میں بھی کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا پسندیدہ ترین کھانا انڈا ، روٹی ہوتا ہے۔
خیر انڈا، روٹی کی داستان ایک طرف فی الوقت موضوع پر واپس آتے ہیں۔ پیٹ کا پاتال با مقابلہ انا کی جنگ۔ بھوک کی شدت کبھی کبھی ہم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہےاور ہم اپنی واتوایوں کو علم اور دانش تصور کرنے لگتے ہیں۔ میرے کانوں میں ٹکراتی ہوئی ایک تیز مانوس آواز میرے اندر زہر گھول کر میرے معد میں پہنچائے جارہی ہے اور میں اس وقت اس آواز کو بند کرانے سے قاصر ہوں۔ لاچاری اور بھوک دونوں مل چکے ہیں اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر کفن دفن کی تیاری کر رہے ہیں۔ نہ تو بھوک تاحیات رہ سکتی ہے اور نہ ہی لاچاری عمر بھر ساتھ نبھا سکتی ہے۔ میں نے کسی سے اتفاقاً سنا تھا کہ “کوڑا بھی اپنی جگہ بدلتا ہے ” وہ بھی مسلسل ایک جگہ پر پڑا نہیں رہ سکتا اور مجھے خود پر اتنا یقین ضرور ہے کہ میں کوڑے سے تھوڑی بہتر ہوں۔ جب کبھی زندگی میں انا کو ٹھیس پہنچتی ہے تو مجھے رہ رہ کر اپنی زندگی کی ناکامیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ کیوں میں نے اتنے اونچے خواب دیکھے؟کیوں میں ہمیشہ اڑنے کی تاک میں رہی؟(جس کی وجہ سے میں اب چلنے سے بھی قاصر ہوں)
گلاس میں پڑے ہوئے پانی کے چند گھونٹ معدے کی آنتوں کو بہلائے جا رہے ہیں کہ مائع آنے کے آغاز ہو چکا ہے تو ٹھوس بھی بس پہنچنے کو ہوگا۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میرا دھیان پریم کہانی کی طرف جا رہا ہے۔ معدہ اپنے محبوب کے انتظار میں نیلگوں ہوا جاتا ہے اور اس کا محبوب یعنی کھانا کسی رقین یعنی میرا انا کا شکار ہو گیا ہے۔
حالات کی سختی محسوس ہونے لگی ہے۔ ایسا کب تک چلے گا؟ میں کب تک اور کون کون سی باتوں کو نظر انداز کروں گی ؟ میرا اپنا سوچنے کا ایک مفرد نظریہ ہے، میں کیونکر اس پر سمجھوتہ روں؟ سارے خاندان کے افراد کی زندگیوں کے فیصلے ایک یا دو لوگ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔۔۔ سارا دن اپنے علم اور دانش پر دوسروں کو یقین دلانے کی خاطر لوگوں پر اور ان کی زندگی ناکامیوں پر انگلی اٹھاتے رہتے ہیں اور جب یہ کام کر کے تھک جاتے ہیںتو اپنا پسندیدہ کھانا تناول فرماتے ہیں ، چائے کی چسکیاں لگاتے ہیں اور پھر ایک بے راستہ منزل کی جانب دوڑ لگا دیتے ہیں۔
ہاں بھئی! میں نے مان لیا، تم سب کو مان لیا۔ ۔۔ تم سب علم و دانش کے دیوتا ہو کیونکہ تم لوگوں نے زندگی کو پیشہ بنانے میں لٹا دیا ہے۔۔ تم سب نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور ہم تو بھئی جاہل ٹھہرے ہیں جو بے مقصد کتابیں چاٹتے رہتے ہیں۔( یہی سوچتے ہو نا تم ہمارے بارے میں کہ ہم ناکام ہیں) تو سن لو۔۔۔
ہاں ہم ناکام ہیں کیونکہ ہم اپنے نظریے پر سمجھوتا نہیں کر سکتے۔
ہاں ہم ناکام ہیں، کیونکہ ہم خوشامد کرنے کے گُر سے ناواقف ہیں۔
ہاں ہم ناکام ہیں، کیونکہ ہمارا قبلہ تم سے بہت مختلف ہے۔
ہاں ہم ناکام ہیں، کیونکہ ہم ڈگری لدے گدھوں کو تعلیم یافتہ نہیں مانتے۔
ہاں ہم ناکام ہیں!

Loading Facebook Comments ...