پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

nimra

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
(ایک مطالعہ غریب الوطنی کا)

خدا نے انسان کو عجیب صورت میں بنایا ہے۔ کہیں خیمہ گاڑ رہے تو ایسے رہنے لگتا ہے گویا قرنوں سے وہیں گوشہ نشین ہو ۔ اور اگر چوبیں اکھاڑ گٹھری کاندھے پر لاد ہاتھ جھاڑ اٹھ کھڑا ہو تو اپنا دل بھی ساتھ اٹھا کر چل پڑتا ہے۔
‎خیر چل پڑنے کے باب میں ہم حسب عادت کچھ مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں ورنہ سچ یہ ہے کہ دل ایک مرتبہ کہیں لگ جائے تو پھر ہزار آسانی سے اور ڈیجیٹل طریقے سے یعنی یکایک اٹھے مگر مکمل نہیں اٹھتا۔
‎ایک زمانے میں جب ہم رسل کی امیدیت پسندی کے نئےنئے پنکھے ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ ایگزیسٹینس پریسیڈس بینگ کے دلکش نعرے سے متاثر ہو کر خود کو تبدیل کرنے پر غور کیا کرتے تھے تو اس وقت بھی شہر چھوڑنے کے ضمن میں وہی بیس پچیس سال پرانا خیال رکھتے تھے کہ اماں کے گھر سے بیس پچیس کلومیٹر محیط کے دائرے سے باہر کوئی کیونکر رہے اور زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیوں رہے۔ جب یہ امر طے شدہ ہے کہ زندگی میں ان سے زیادہ اہم کچھ بھی نہیں ہوتا تو پھرایک بھی دن ان سے دور کیوں گزارا جائے۔ یوں بھی خدا کی مخلوق میں سے ہم صرف ان کی بات مانا کرتے ہیں اور اس معاملے میں تو ان کی بھی ماننے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔
‎ایک مزید خیال جو بعد میں خام ثابت ہوا، یہ تھا کہ پنڈی بوائز کے رواج کے مطابق ہم راولپنڈی کے ساتھ عرف عام میں سیٹ ہیں اور یہ ہمارے ساتھ ، لیکن لوح نصیب پر جال شاید ہر طائر کے ذوق اور پنجے کی ہئیت کے مطابق ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی خطرناک حد تک مغالطہ ہو گیا کہ ایک یونیورسٹی کو نظر میں رکھ کر ہمیں تخلیق کیا گیا ہے اور اس مارے آج تک اس کے شہر کا نام ایسی عقیدت سے لیتے ہیں کہ کافی لوگوں کو شک ہے کہ معاملہ آخر ہے کیا۔
‎کچھ عرصہ قبل ہم اپنی ایک دور والے مشرق کی دوست سے استفسار کر رہے تھے کہ یہ کب آس حضوری ہو، کب سادھنا پوری ہو، کب کلیاں بیلے کی ہم سجنی کو پہنائیں والے شعر میں سادھنا کا کیا مفہوم ہے۔ یہاں تک تو ہم دونوں متفق تھے کہ پہننے پہنانے کے لیے کوئلے سے ہیرے تخلیق کیے جاتے ہیں اور بیلے کی کلیوں سے کام چلانا ذرا ہلکا کام ہے ، البتہ سادھنا کے معنی پر بحث ہو گئی۔ انھوں نے ہمیں مطلب سمجھانے کی کوشش کی جو حسب معمول زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوئی ۔ یاد تو ہم یوں بھی کچھ نہیں رکھا کرتے لیکن وہ کچھ ایسا کہہ رہی تھیں کہ اس سے مراد ہے، بہت ہی اونچے درجے کی تمنا۔
‎ہم نے سوال کیا، تو کیا فلاں یونیورسٹی ہماری سادھنا ہے؟
‎کہنے لگیں، نہیں نمرہ، اگر وہ تمھاری سادھنا ہوتی تو اس وقت تم وہیں ہوتیں۔
‎اب ہم کیا کریں کہ ہماری کہانی میں ظالم سماج کا کردار ہمیشہ داخلہ کمیٹیاں اور ادارتی بورڈ ادا کیا کرتے ہیں۔
‎خیر سادھنا وغیرہ سے قطع نظر ہم اس جگہ کی راہداریوں میں جھاڑو لگانے کے بھی قابل نہیں مگر انسان کو سردیوں کی شاموں اور گرمیوں کی دوپہروں میں اداس پھرنے کو ایک نام بھی درکار ہوتا ہے۔ اس یونیورسٹی کو تو آج تک خبر نہیں ہو سکی کہ ہم وجود رکھتے ہیں اور صرف اسی کے لیے اور اگر تصویر پرستی کے قائل ہوتے تو اس کے داخلی دروازے کی تصویر فریم کرا کے صبح شام اپنے دوپٹے سے اس کی گرد جھاڑا کرتے۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ اس یونیورسٹی سے لفٹ لینے کے چکر میں ہم ایک اور جگہ اٹک گئے جو کہ ہمارے پسندیدہ دائرے سے ذرا باہر واقع ہوئی تھی۔
‎بات وہیں آ کر پہنچی ، یعنی کہ دور۔ تو پھر یہاں ہمیں اپنے دو خیالات میں سے ایک کی قربانی بادل نخواستہ دینا پڑی۔ خیر یہ بھی ہم نے چپ چاپ تو نہیں دی بلکہ اس نوع کی پیشن گوئیوں کے ساتھ دی کہ شاید ہم ہوم سکنس کے مارے انتقال فرمانے والے پہلے انسان ہوں دنیا کے۔ بڑی بات ہے کہ اس قسم کی فقرے بازی کے باوجود ہمیں بھیج دیا گیا ۔ کچھ یہ بھی تھا کہ اس یونیورسٹی کو انکار کرنے کی تاب ہمارے پورے گھر میں کوئی نہیں رکھتا تھا۔
“‎غریب الدیار ہونے سے قبل ہمارا اس کیفییت سے تعارف فقط ”بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے والے شعر کی حد تک تھا اور کبھی کبھار اپنی لاعلمی کا کڑوا گھونٹ بھر کر کسی تجربہ کار انسان سے پوچھنے کی کوشش کرتے تھے تو ہمیں عجیب و غریب جواب ملتے تھے۔ اسی مارے ہم نے ارادہ کر لیا تھا کہ خدا نے موقع دیا تو نثر نگاروں کے رواج کے مطابق اس پر مقالہ تحریر کریں گے جب خود گھر سے نکال پھینکے جائیں گے تو۔
‎لیکن صاحبو، غریب الوطنی کا احساس اس قدر سبلائم ہے کہ اسے شعر میں باندھنا بھی بڑا کٹھن کام ہے، نثر میں تو خیر یوں بھی لطافت کا خون ہو جاتا ہے۔ میر کے شعر کا معاملہ یوں ہے کہ وہ ہمیں کچھ یوں ہی موقع بے موقع یاد آتے ہیں ورنہ ہمیں تو اپنے شہر میں بھی کوئی نہیں پوچھتا تھا خصوصا بے روزگاری کے دنوں میں تو پھر دیس پردیس کی تخصیص کیسی۔ یہاں بے روزگاری کا ٹکڑا یوں لگانا پڑا کہ روزگار میں ڈیڈ لائنیں بھی ہوتی ہیں اور ڈیزائن میں بگز بھی جن سے پالا پڑنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا کا نکتہ سمجھنے والے سستے میں چھوٹ گئے۔
‎ حفیظ سےہمیں اختلاف ہے اور وہ یہ کہ غریب الوطنی کا احساس ہمارے نزدیک تو دھوپ کی تمازت جیسا نہیں بلکہ تاریکی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے یا وائڈ کی مانند ہے جو پردیس میں کیا دھوپ کیا چھاؤں، ہر جگہ انسان کے ساتھ ساتھ پھرتا ہے ۔ یہاں پردیس سے مراد ہر وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنے جاننے والوں سے دور ہو ورنہ دیوجانس کلبی کی طرح ہمیں بھی سرحدوں کے تصور کی حقیقت سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔
‎ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہر انسان کے تجربات کا ایک بڑا اور اہم حصہ اس کی شخصیت پر بھی مبنی ہوتا ہے اسی لیے ہمارے نزدیک کسی کا ہماری رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ ہم نہ تو دوسروں کےتجربات کے قائل ہیں ، نہ غریب الوطنی کے اور نہ ہی اتفاق کے۔ مشرق کے مکینوں کا دل عرصے سے مغرب میں اٹکتا آیا ہے اور اس میں بھی کوئی تعجب نہیں۔ غریب الوطنی میں بہت سے معاملات مشترک ہوتے ہوں گے مگر افسوس کہ مشرق ہنوز مشرق ہے اور مغرب مغرب لہذا ہماری رائے کو اوقیانوس پار کرنے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
‎اوقیانوس پار کرنا یوں اچھا ہے کہ اس میں گھر والوں کو اس قسم کے جملوں سے بلیک میل کرنے کا موقع ہےمثلا ہمیں تو اٹھا کر اوقیانوس کے اس طرف پھینک دیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ حالانکہ اس پار کرنے میں انسان کی جان آدھی رہ جاتی ہے ، امیگریشن کے ٹنٹنے کے علاوہ بھی۔ سچ یہ ہے کہ ہمیں بوسٹن اور پیساڈینا سے غائبانہ عقیدت تھی اور اس حد تک غائبانہ کہ ہم نے کبھی دنیا کے نقشے پر انھیں دیکھنے کی زحمت نہیں کی مگر جب ہمیں حکم نامہ موصول ہوا کہ بی بی اپنا بوریا بستر باندھیے اور کارنیگی میلن اتر کر کھولیے تو نقشے پر اس کی جائے وقوع ڈھونڈنے میں دل کو ذرا پریشانی ہوئی۔ مطلب یہ کہ نقشے پر اس سے بعید کچھ بھی نہیں سوائے کینیڈا کے، مطلب کہ اگر انسان کو اترنا ہی ہو تو کسی قریب کی جگہ اترے بھئی۔ افسوس ہے کہ اس قدر ترقی کے باوجود ابھی تک ٹیلی پورٹیشن کا کوئی طریقہ نہیں دریافت ہوا۔
‎یونیورسٹی ہماری یوں تو اچھی ہے مگراس کے نام سے عموماً لوگ واقف نہیں ہوا کرتے۔ اپنے شہر کو کیا الزام دیں، برکلی سے کسی کا تبصرہ معلوم ہوا جس کے مطابق اس غریب کو کسی قسم کا تربوز یا خربوزہ سمجھا گیا تھا۔ خیر جواب دینے والے کہ قیامت کی زباں رکھتے ہیں، کہے بغیر نہیں رہ سکے کہ یو سی تو یونیورسٹی سینٹر ہوا کرتا ہے، کسی درسگاہ کا نام تھوڑا ہی ہے۔ لیکن ہمیں یہاں سب کچھ اچھا لگتا ہے سوائے کم سے کم نیند کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی دوڑ کے جو شب و روز جاری رہتی ہے۔ گردش زمانہ کی زد میں جب آتے ہیں تو پچیس تیس پیہم گھنٹے ہم بھی لگاتے ہیں لیکن یہ اوائل سمسٹر سے ہی سپر ویمپائر بننے کی تک سمجھ میں نہیں آتی۔ خیر یہ بھی سچ ہے کہ اس کے بعد امتحانوں کے پرچے بھی ہماری سمجھ میں نہیں آتے لیکن ابھی تعطیلات کے گزرنے کے باعث ہمارے ہی الفاظ میں رت سہانی چل رہی ہے اور ہم ایسے تکلیف دہ موضوعات سے پرہیز کریں گے۔ یہاں ہمیں واقعی پاس ہونے کے لالے پڑے ہوتے ہیں لیکن ہزار بار موقع دئیے جانے پر بھی ہم یہیں آنا پسند کریں، اے کاش جانتا نہ تری رہگزر کو میں۔ شہر سے ہماری یوں بھی بنتی ہے کہ قدیم اور خاموش سا ہے مگر موسم کے لحاظ سے بائی پولرہے جیسا کہ ایک دوست نے ایک مرتبہ ایتھیکا کو بیان کیا تھا۔
‎ اپنے اردگرد کو پسند کرنے کے انسانی رویے سے قطع نظر اپنی یونیورسٹی ہمیں اس مارے بھی اچھی لگتی ہے کہ اس میں لیٹ اٹ گو کا راگ الاپتے ہوئے قینچی چپل پہن کر بس کے پیچھے دوڑا جا سکتا ہے ۔ یہاں یہ واضح کرتے چلیں کہ ہمارے لیٹ اٹ گو کا مشارالیہ بس ہرگز نہیں ہوا کرتی۔ یہ ضرور ہے کہ پھر ہرگز ضروری نہیں کہ اس بس میں ہمیں کھڑا دیکھ کر کوئی اٹھ کھڑا ہو لیکن زندگی آپٹمائزیشنز یعنی کچھ لینے کچھ دینے کا نام ہے اور ہم یوں ہی خوش رہتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس شہر میں اپنا فرنیچر خود ہی سڑکوں پر گھسیٹنا پڑتا ہے مگر اسے ہم کہیں زیادہ سہل پاتے ہیں بہ نسبت انسانی تعلقات گھسیٹنے کے۔ خیر یہ بھی ہے کہ فرنیچر غریب بے زبان ہوا کرتا ہے۔ انسانوں کی بے مروتی ہم تو ”شاید مجھے ازل سے وفا سے گریز تھا، شاید قصور اس میں تمھارا بھی کچھ نہیں “ کہہ کر جھٹک دیتے ہیں لیکن لوگ ہمیں اتنی رعایت دینے پرکبھی تیار نہیں ہوتے۔
‎اس تمہید کا مقصد فقط یہ اعتراف کرنا تھا کہ ہماری رائے مبنی بر تعصب ہو سکتی ہے مگر وہ کس انسان یا مشین کی نہیں ہوتی۔ بس کبھی کبھار خیال آتا یے کہ لیٹ اٹ گو کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان کو خالی ہاتھ رہنے کی خو ہو جاتی ہے اور اسے کچھ بھی ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے تامل نہیں ہوتا۔ گھر کا رستہ تو انسان گوگل میپ میں محفوظ کر لے لیکن نگری نگری پھرنے سے گھر کا تصور ہی کہیں راستے میں رہ جاتا ہے۔ دائمی خانہ بدوشوں کو پھر گھر راس نہیں آتے اور اپنی چار چیزوں کی پوٹلی کے علاوہ کچھ بھی اپنا محسوس نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بحث بھی کی جا سکتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو کسی خانے اور لیبل میں قید کرے ہی کیوں اور اس کی حمایت میں اقبال کا شعر لایا جا سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر ملک ہمارا ملک ہے لیکن صاحبو، آئیڈینٹیٹی ، بیلانگنگ اور آنٹی گریشن کے مسائل بڑے پیچیدہ ہیں اور ہماری سعی سے سلجھنے سے رہے جبکہ ہمیں ویکٹر کیلکلس تک ڈھنگ سے نہیں آتا۔
سرکاری طور پر ہماری جلاوطنی کا مقصد تعلیم حاصل کرنا ہے مگر سچ یہ ہے کہ ہمارا دل تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ آوارہ گردی سے لے کر خانہ داری تک ہر شے میں لگتا ہے کہ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت۔ مؤخرالزکر کے باب میں تو ہم اس قدر طاق ہو چکے ہیں کہ سست الوجود افراد کے لیے کم ترین ریزیسٹینس سے گھر چلانے پر ایک مینوئل لکھ سکتے ہیں جو کچھ تو اپنی سستی کے مارے نہیں لکھتے اور کچھ اپنی اماں کے ڈر سے۔ خاطر غزنوی پھر بھی خوش نصیب تھے کہ فقط ویرانے ساتھ لیے پھرتے تھے، ہمارے ہمراہ تو ہمیشہ انتشار اور بدنظمی کا طوفان رہتا ہے ۔ کسی کامک سے اٹھائی ہوئی بات ہے مگر اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے کہ کھانا پکانے میں چھ گھنٹے لگتے ہیں، کھانے میں تین منٹ اور برتن دھونے میں سات دن اور سات راتیں۔ یہاں اپنا گھر یاد آتا ہے جہاں ایک ان کہا اصول تھا اور طبیعات کے قوانین جتنا محترم کہ برتن دھونے سے ہمارے ہاتھ خراب ہو جائیں گے جن سے ابھی ہمیں تحریر کرنا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اونچے درجے کے مصنفین کے برعکس ہماری موٹیویشن فقط اتنی ہوا کرتی ہے کہ ان تمام افراد اور اداروں سے بدلہ لے سکیں جن سے بدلہ لینے کی اور کوئی صورت نہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ درویشوں کے قہر کی طرح ان کی تحریریں بھی ان کی اپنی جان پر گرتی ہیں یعنی فقط لکھنے کی ہوتی ہیں، پڑھنے کی نہیں اور وہ بھی اکثر اسی وقت جب کوئی ضروری کام سر پر لہرا رہا ہو۔
بات یہ ہے کہ کھانا پکانا اس قدر محنت طلب کام ہے کہ اس کے مارے ہم کھانا کھانا ترک کر سکتے ہیں اور کر دینا چاہیے۔ پھر کھانا پکانے والے کا نیٹ انرجی گین تو لازما منفی ہوا کرتا ہے، ویج گیپ کی بحثوں کے علاوہ بھی۔ اس سے بہتر ہے کہ انسان اتنی دیر میں شعر کہہ ڈالے، کم از کم ان کے پھیکے نکلنے پر اتنا افسوس تو نہیں ہوتا۔ خدا اس شخص سے سوال کرے جس نے آگ ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکالی اور ہمارے آباؤ اجداد کو کچے کھانے کے سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ہم تو کہتے ہیں کہ انسانوں کو پٹرول وغیرہ پر چلنا چاہیے، آخر کاریں بھی چلتی ہیں اور کیسی خوبصورت ہوا کرتی ہیں۔ اب جمالیات کے پیچھے ایفیشینسی کا خون ہوتا ہو تو ہوتا رہے، ہمیں اس کی پروا نہیں۔ فطرت کی طرف لوٹنے کی ترغیب دینے والی تحریکیں اگر ہنٹر گیدررز والے طرز زندگی کی حمایت کریں تو ہمیں اپنا حامی پائیں۔
تعلیم میں دل تو ہمارا خیر پہلے بھی کبھی نہیں لگا لیکن مشین لرننگ کی بات اور ہے ۔ وہ ہم اس نیت سے دل لگا کر پڑھتے ہیں کہ خود کو سیکھنا سکھا سکیں ، مثلاً انسانوں سے ملنا جلنا وغیرہ۔ یہ الگ معاملہ ہے کہ اس کے لیے ہمیں شاید ہیومن کمپیوٹر انٹریکشن پڑھنے کی ضرورت ہے اور وہ بھی کمپیوٹروں کے نکتہ نظر سے۔ پھر یہ بھی کہ اس میں ہر جملے کے ساتھ ایک عدد پرایبیبلٹی ڈسٹریبیوشن جڑی دیکھ کر سکون ملتا ہے اس دنیا میں جہاں لوگ سو فیصد غلط بات بھی دو سو فیصد اعتماد کے ساتھ کرنے کے عادی ہیں۔
غریب الوطنی کے اس افسانوی احساس سے، جس کا نثر سے لے کر نظم تک ہر ہیئت میں تذکرہ ملتا ہے، تہی رہ جانے کا شاید یہ پہلو بھی ہے کہ جب انسان کو اپنے بلبلے میں ( یا اردو کے محاورےکی رعایت سے خول میں) رہنا ہو تو پھر انسان کے طول بلد اور عرض بلد سے کیا فرق پڑتا ہے، نہ خود کو اور نہ بلبلے کو۔ ہاں گھر والے ہمیں ضرور یاد آیا کرتے ہیں خصوصا اس وقت جب دہی خریدنے خود نکلنا پڑے لیکن زندگی تو دہی کے بغیر بھی گزاری جا سکتی ہے۔ خیر یہ ہے کہ مغرب کی آب و ہوا ایسے بلبلوں کے لیے کافی سازگار ہے ۔ برف کا بھی ہم ایسا برا نہیں مانتے کہ اس سے ہماری کچھ رشتہ داری ہے اور یہ اچھی خاصی مسحور کن ہوتی ہے جب تک لوگ اسے اپنے میلے کچیلے جوتوں تلے نہ کچلیں۔ اس کی شان میں ہم قصیدہ کہہ سکتے ہیں مگر پھر اپنی عدم صلاحیت کے مارے خاموش رہتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ناصر کاظمی اسے بھی اپنی پہلی والی فہرست میں شامل کرتے اگر وہ فرصت میں مری کا چکر لگاتے۔ خیر آج کل کے مری کا چکر لگانے سے، وہ بھی برف باری کے موسم میں، ناصر صرف انسانوں اور کاروں کی ہجو لکھ سکتے تھے اور کچھ نہیں۔ اچھا ہی ہوا کہ بیچارے پوری زندگی کے لیے متاثر ہونے سے بچ گئے۔
انسان اگر اپنے ماحول کے مطابق واقع ہوا ہو تو عام طور پر اس کی زندگی سہل رہتی ہے لیکن اپنے اردگرد سے عدم مطابقت رکھنے کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ نئی جگہ جا کر اجنبیت کا احساس ستاتا نہیں۔ شاید اس کی افادیت سے بھی کچھ لوگ اختلاف کریں مگر ہم تو اس پر گھر میرا نہ دلی نہ بخارا نہ سمرقند کا شاعرانہ پردہ ڈالنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ میں بہت دیر میں آئی کہ اگر داخلیت اور خارجیت میں بہت واضح تضاد نظر آتا ہو تو آنکھیں بند کرنے کے بجائے کھڑکی بدل لینی چاہیے۔ جب پورے شہر میں کوئی آپ کو لفٹ نہ کراتا ہو اور آپ دل جس سے مل گیا وہ دوبارہ نہیں ملا کا رونا رونے میں مصطفی زیدی کے ہمراہ ہوں تو دورافتادہ کسی مقام پر پڑے رہنے میں یک گونہ اطمینان ہوتا ہے کیونکہ وہاں کے اجنبیوں سے کم از کم آپ نے کوئی توقعات وابستہ نہیں کر رکھی ہوتیں۔ تنہائی کو پسند کرنے کا ہمارے ہاں رواج نہیں مگر اندر وندر کی بکواس پر یقین نہ رکھنے کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو انسان تنہائی سے ڈرتا ہے وہ دراصل اپنی صحبت سے گھبراتا ہے اور ایلیٹ کے کھوکھلے انسانوں سے زیادہ کھوکھلا واقع ہوا ہے۔ آدمی اچھا ہو یا برا، اپنے لیے کافی ہونا چاہیے۔ یہ ہمہ وقت ایک غیر متعلقہ ہجوم کی آرزو اور ایک بے معنی ہنگامے کی تمنا چہ معنی دارد؟ کم از کم ہماری سمجھ میں تو نہیں آتی لیکن خیر اس میں آتا ہی کیا ہے۔
اگرچہ یہاں مشینوں میں گھرے رہنے کا موقع خوب ملتا ہے اور ہم اسے دل کی کچھ ایسی موت بھی نہیں سمجھتے مگر پھر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب میں انسان ہی بسا کرتے ہیں اور انسانوں میں بہت کچھ مشترک ہوا کرتا ہے ۔ ہمیں بھی کبھی کسی کی مسکراہٹ کی رمق یا آنکھوں کی چمک دیکھ کر کسی اور کا خیال آ جائے تو فون تلاش کرتے ہیں اور جمع تفریق کے بعد واپس جیب میں ڈال لیتے ہیں کہ دس گھنٹے کا فرق بہت ہی کم مشترکہ وقت باقی رہنے دیتا ہے۔ ہاں یونیورسٹی میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پھرنے والوں کی بات اور ہے، یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے۔
راولپنڈی سے ہمارا ایک عجیب تعلق ہے کہ اس شہر میں ہم پاس بھی ہوئے ہیں اور فیل بھی مگر جب ٹیک آف کرتے ہوئے جہاز کی کھڑکی سے دور پار ٹمٹانے والی بتیوں کو دیکھتے ہیں تو ہمارے محسوسات کچھ وہی ہوتے ہیں جیسے کارل سیگن کے زمین کے نیلے نقطے کے بارے میں۔ ہمیں بھی یہی خیال ستاتا ہے کہ زمان و مکان کے اس بے کراں سکیل پر ہمارا جو کچھ بھی ہے، یہیں اسی شہر میں قیام پذیر ہے۔ ہماری تمام آرزوؤں کا محور، ہماری تمام حاصل اور لاحاصل کوششوں کا حتمی مقصد۔ یوں تو دنیا میں ہمیں کوئی نہیں جانتا لیکن ایک ہاتھ کی انگلیوں بلکہ انگلی پر گنے جانے والے افراد جو ہمیں بہرحال جانتے ہیں، یہاں رہتے ہیں۔ ہمارا گھر رن وے سے اچھا خاصا دور ہے مگر پھر بھی ہم ہر مرتبہ یہ سوچتے ہیں کہ شہر کی بہت سی ٹمٹماتی ہوئی روشنیوں میں سے ایک اس دئیے کی بھی ہے جسے گھر والوں نے جلا کر صحن کی دیوار پر رکھ دیا ہے کیونکہ اب ہم چلے گئے ہیں اور روشنی تو چاہیے ہوتی ہے گھر میں۔ یہ بھی خیال آتا ہے کہ اگر یہ شہر فقط ہمارے تخیل کا ایک کرشمہ ہو تو ہماری کوئی حیثیت اور کوئی شخصیت نہیں رہ جاتی اور نہ ہی ہم پر کسی قسم کا پل رہ جاتا ہے، بالکل دور دراز ڈیپ سپیس میں پھرنے والے خلائی کچرے کے طرح۔ دور رہ کر یوں بھی کٹی پتنگ کا استعارہ اچھی طرح سمجھ میں آ جاتا ہے۔
اس کے بعد ہمیں دعا مانگنی پڑتی ہے، شہر اور شہر والوں کے لیے۔
شب ہجراں سے طویل تر فلائٹ بلکہ فلائٹوں ( کہ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ ایک فلائٹ ہوتی ) سے جب اترتے ہیں تو پوکر فیس لیے داخلے کی قطار میں لگ جاتے ہیں ۔ ان ائیرپورٹوں پر محاورتا نہیں بلکہ حقیقتا سارے جہان سے لوگ اپنے اپنے خواب لے کر آتے ہیں ، اچھی قیمت کی آرزو میں اور آئی میڈ آ ڈیسیزن آئی وڈ نیور لک بیک کی نیت کے ساتھ ۔ بھانت بھانت کے، ہر سائز اور ہر رنگ کے خواب، اور وہ بھی دنیا کے چاروں کونوں سے۔ ان پر لکھنے کو تو مجید امجد سا ہنر چاہیے، وہ ہم کہاں سے لائیں۔ نثر نگاری کی رعایت سے یہاں کہا جا سکتا ہے کہ ہم قطار میں کھڑے چہرے پڑھتے ہیں لیکن اوّل تو ہم مساواتوں کے علاوہ کچھ پڑھنے کا ہنر نہیں رکھتے اور دوئم یہاں دوسروں کی جانب دیکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے، خدا جانے ہمارے ہاں اس قدر تفصیلی سفر نامے کیوں کر تحریر کیے جاتے ہیں مغرب کے۔ بتیاں تو ہمیں اس شہر کی بھی، جو فی الحال ہمارا شہر ہے، بہت اچھی لگتی ہیں مگر ادھر اترتے ہی ہم کوئی اور سنجیدہ مخلوق بن جاتے ہیں اور شاید غریب الوطنی کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ انسان نئے پریشرز کے زیر سایہ ارتقا کے مارے وہ کچھ بن جاتا ہے جو دربدری سے پہلے اس کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔

Loading Facebook Comments ...