The Monkey Trial

The Monkey Trial Image

احسن سبحانی

The Monkey Trial Image۲۰ جولائی ۱۹۲۵ کا دن تھا۔جولائی کے دوسرے دنوں کی طرح وہ بھی ایک روشن اور گرم دن تھا۔امریکی ریاست ٹینی نیسی کی فوجداری عدالت میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔کیس کی نوعیت دیکھتے ھوئے اور بین الاقوامی دلچسپی کے پیش نظر یہ عدالت کھلے عام لگائی گئی تھی۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد عمارت سے ملحقہ کھلے میدان میں جمع تھی۔معززین شہر بنچوں پر براجمان تھے۔عوام زمین پر جبکہ دیر سے آنے والے کچھ حضرات درختوں سے لٹکے ھوئے صاف دیکھے جا سکتے تھے۔ملک بھر سے ۲۰۰ کے قریب اخباری نما ئندے بھی اس مقدمے کی کاروائی کا آنکھوں دیکھا احوال قلمبند کرنے کے لیے بے تاب تھے۔جبکہ عوام ایک مقبول سیاستدان اور مذہبی رہنما (جو کہ اس مقدمے میں سرکاری وکیل بھی تھا)کی خطابت کے جوہر اور ایک (چرچ کے باغی) ہا ئی سکول کے استاد کو رسوا ہوتے دیکھنے کے لیے بہت پرجوش تھے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں بینر لیے کھڑی تھی جن پر سرکاری وکیل کے حق میں نعرے درج تھے۔اسی دوران جج صاحب کمرۂ عدالت میں داخل ہوتے ہیں ہر طرف خاموشی چھا جاتی ھے۔جج کاروائی شروع کرنے سے پہلے ایک مقامی پادری کو مقدس کتاب سے کچھ دعائیہ کلمات بلند آواز میں پڑھنے کی دعوت دیتا ھے۔جس پر وکیل صفائی (استاد کا وکیل) کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرتے ھیں لیکن وہ خامو ش ر ہتا ہے کہ اسی مقدمے کی کاروائی کے دوران وہ پہلے بھی توہین عدالت کی کاروائی بھگت چکا تھا۔
مقدمے کی کاروائی کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے سرکاری وکیل اور میدان میں بیٹھے لوگ مطمعن نظر آتے تھے کہ پچھلے دنوں کی کاروائی میں سرکاری وکیل کا پلڑا بھاری رھا تھا۔اور انہیں یقین تھا کہ وکیل صفائی کے پاس اب کہنے کو کچھ زیادہ نہیں ھو گا۔پھر اچانک وکیل صفائی پراعتماد طریقے سے جج سے درخواست کرتا ھے کہ وہ سرکاری وکیل کو بطور بائبل کے ماہر کے گواہوں کے خانے میں بلانا چاہتا ھے ۔ واضح رھے کہ اس سے پہلے جج وکیل صفائی کے بلائے گئے تمام گواہوں اور عدالتی معاونین کو اس کاروائی کا حصہ بننے سے روک چکا ھے۔خیر اب اس مقدمے کے دونوں اصل فریق آمنے سامنے تھے۔
وکیل صفائی: معزز وکیل آپ نے با ئبل کا کا فی مطالعہ کیا ھے۔
سرکاری وکیل: یقینا
وکیل صفائی: کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ھیں کہ بائبل میں لکھی ہر بات کا فقط لفظی مطلب مراد لینا چاہیے
سرکاری وکیل:(کچھ سوچتے ھوئے) زیادہ تر حالات میں ایسا ہی ھے۔البتہ کچھ چیزیں وضاحت طلب بھی ھوتی ھیں۔
سرکاری وکیلنے یہ کہ کر فاخرانہ مسکراھٹ دی۔جو اس بات کا اظہار تھا کہ اس نے مخالف کے داوٗکابڑی چالاکی سے توڑ نکالا تھا۔
باقی کا مکالمہ کچھ یوں تھا۔
وکیل صفائی: کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ھیں کہ یونس ؑ کو وہیل نے نگلا تھا
سرکاری وکیل:نہیں بائبل میں لکھا ھے کہ بڑی مچھلی نے نگلا تھا
وکیل صفائی: لیکن عہدنامہ جدید میں وہیل کا زکر ھے
سرکاری وکیل جزبز ہوا لیکن وکیل صفائی نے سوال جواب کا سلسلہ جاری رکھا
وکیل صفائی: آ پ کیا سمجھتے ہیں کہ زمین ساکت ہے یا سورج
سرکاری وکیل خاموش رہا۔مجمے سے آوازیں آنا شروع ہو گیءں۔یوں لگ رھا تھا کہ عوام کا سرکاری وکیل پر اعتماد کم ھو رہا ھے۔اٹارنی جنرل نے آگے بڑھ کر وکیل صفائی کو روکنے کی کوشش کی مگر جج نے اس کو سوال جواب کا سلسلہ جاری رکھنے کو کہا۔سرکاری وکیل نے بھی کہا
میں ان چند لوگوں کے تمام سوالوں کے جواب دوں گا جو مذہب کو کٹہرے میں کھڑ ا کرنے کی نیت سے اکٹھے ھوئے ھیں۔
یہ سن کر لوگوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔وکیل صفائی کا اگلا سوال بھی پریشان کن ثابت ہوا۔ جب مزید چند سوالوں کی جواب میں سرکاری وکیل لاجواب ھو گیا تولوگوں نے سرکاری وکیل پر آوازیں کسنا شروع کردیں ۔جج نے عدالت اگلے دن تک کے لیے برخاست کر دی۔تمام لوگوں نے وکیل صفائی کو مبارکباد دی کہ اس نے آج مخالفین کے منہ بند کر دیئے۔چند لوگ اپنے سابقہ روئیے پر پشیمانی کا اظہار کرنے لگے۔
اگلے دن ۲۱ جولائی کو پھر وہی سماں تھا۔ آ ج بھی لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھابینروں پہ لکھے نعرے آج اپنا رخ بدل چکے تھے۔آتے ہی جج نے کل ھونے والے مکالمے کو مقدمے کی کاروائی سے خارج کرنے کا حکم دیاجس پر وکیل صفائی نے احتجاج کیا جو بے سود رہا ۔اس دن مختصر سی کاروائی کے بعد جج نے باغی استاد کو مجرم قرار دے دیا اور اس پر ۱۰۰ ڈالر جرمانہ عائد کر دیا۔وکیل صفائی مقدمہ ہار چکا تھا ۔
یہ کہانی امریکی تاریخ کے مشہور ترین مقدمے دی مونکی ٹرائل کی ھے۔ سرکاری وکیل جو کہ ایک ممتاز سیاستدان اور مذہبی رہنما تھا اور اسی کی کوششوں سے ڈارون کے نظریہء ارتقا کو پڑھنے لکھنے اور اس کا پرچار کرنے پر پابندی عائد کرنے کا قانون بنایا گیا تھا۔ جس کو ایک ہائی سکول استاد نے ماننے سے انکار کیا جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔اس استاد کا نام جان اسکوپ تھا اور وکیل صفائی ریاست کا مشہور وکیل تھا جس نے یہ مقدمہ بلامعاوضہ لڑا۔
کہانی ختم ھوئی۔اس کہانی کا اسلامی نظریاتی کونسل کے حالیہ فیصلوں سے کوئی تعلق نہ ھے۔ایسا کرنے والا اپنی ذہنی پریشانی اور خفت کا خود ذمہ دار ھو گا۔

Loading Facebook Comments ...