الجھن ۔ عائشہ اسلم

Aisha Aslam

کبریٰ گریجویٹ الجھی بیٹھی تھیں، الجھی کہنایوں ٹھیک ہے کہ سرتاپا الجھن کے آثار دیکھے جا سکتے تھے، الجھے بال، پیشانی پر الجھی سلوٹیں، انکھوں میں غصے کے ڈورے بھی الجھے ہوئے، پھول پھول تمتماتے ہوئے گالوں اور سکڑتے پھیلتے ہونٹ اندر پنپتی الجھن کا پتہ دے رہے تھے۔ مٹھیوں کو بند کھول کرنا اور زور زور سے ٹانگیں ہلانا ظاہر کر رہا تھا کہ دماغ بھی الجھا ہوا ہے۔
میاں نارا ض ہو کر حسبِ معمول کہیں جا چکے تھے۔۔۔وہی روز کی بحث
تم مجھے کمتر کیوں سمجھتے ہو؟
کبریٰ کا چیخنا
میں نے ایسا کب کہا؟
میاں کا غصے بھرا استفسار
پھر تم اپنے فیصلے مجھ پر کیوں مسلط کرتے ہو میں پڑھی لکھی ہوں، تم سے کسی طرح کم نہیں ہوں۔
کبریٰ کا میاں کو یقین دلانا۔
میں کوئی فیصلہ کروں تو تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ میں تمہیں کمتر سمجھتا ہوں؟
میاں کا پھر سوال
” کیونکہ ازل سے یہ ہوتا چلا آرہا ہے، عورت کو مرد کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا رہا ہے”
وہی بوسیدہ سا رٹا رٹا یا جواب جو خواتین کا ایک مخصوص گروہ برسوں سے تواتر کے ساتھ دیتا چلا آ رہا ہے۔۔یہ وہ خواتین ہیں جو پڑھ لکھ تو جاتی ہیں ذہن کو کمتری کے اس احساس سے نہیں نکل پاتیں جو شاید پیدائش کے ساتھ ہی ان کی ذہنی نشونما جا حصہ بن جاتا ہے۔۔۔یا بنا دیا جاتا ہے۔
میرے خیال میں اس سوچ میں خرابی ہے، وہ خرابی یہ ہے کہ سوچنے کا یہ انداز عورت کو نہ تین میں رہنے دینا ہے نہ تیرہ میں۔۔۔
سب سے پہلے تو اس بحث ہی کو ختم ہو جانا چاہئے۔۔۔عورت اور مرد کی برابری کا سوال ایسا ہی ہے جیسے آسمان کو نیلا کہا جائے۔ بھنڈی کو ہرا، دودھ کو سفید۔۔۔یہ الگ بات ہے کہ موسم کے تغیرات انکے رنگ کو تبدیل کر دیتے ہیں۔۔۔
عورت یہ سوچے ہی کیوں کہ وہ مرد کے برابر نہیں؟
خاص طور سے اس تکنیکی دور میں جب عورت کو نیزے بھالے اٹھا کر دشمن سے مقابلہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
فرانس کی مشہور مصنفہ اور عورتوں کے حقوق کی علمبردار “سیمون بووا” اپنی تخلیق” سیکنڈ سیکس” میں لکھتی ہے۔ (ترجمہ)
تکنیک مرد و عورت کی جسمانی یا عضلاتی نا برابری کو کالعدم قرار دیتی ہے کثرت و فراونی صرف ضرورت کے تناظر ہی میں برتر بناتی ہے اور بہت زیادہ ہونا کافی ہونے سے کسی بھی طرح بہتر نہیں چنانچہ جدید مشینوں کے کنٹرول کو عضلاتی وسائل کا صرف ایک حصہ درکار ہے اور اگر کم از کم مطلوبہ قوت عورت کی استعداد سے باہے نہیں تو جہاں تک اس کام کا تعلق ہے وہ بھی مرد کے برابر ہو جاتی ہے۔”
یہ تکرار کہ عورت مرد کے برابر ہے عورت کو آگے بڑھ کر عظیم کام کرنے سے روکتی ہے اور اسے اسی سوال میں الجھائے رکھتی ہے۔۔۔ پہلے تو اس کے تسلط سے نکلنا ہوگا۔
عورت کو “صنف نازک”کا خطاب دینے میں معاف کیجئے گا، مردوں کی بدنیتی شامل ہے، ایک طرف عورتوں کو گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی پرورش اور قلیل آمدنی میں ہر طرح کے انتظامات جیسے سخت فرائض تھوپ کر دوسرے طرف اپنی انا کی تسکین کے لئے اسے “صنف نازک”بنا دیا۔ تاکہ اپنے برتری بھی قائم رہے اور عورت کو اپنے کمزور ہونے کا احساس بھی رہے۔۔۔
ورنہ قدرت نے تو اسے تخلیقی صلاحیت دیکر اس کی عظمت کو تسلیم کیا۔ اس گھسے پٹے سوال کو ختم کرنے کی درخواست سے میرا مقصد عورتوں کو بد تمیز بنانا ہر گزنہیں ہے بلکہ میں تو انکے ذہن میں لگی اس گرہ کو کھولنا چاہتی ہوں جس نے ان کے وجود کے بنیادی مقصد ہی کو دھندلادیاہے۔۔۔وہ اپنی ساری خداداد صلاحیتوں کو صرف یہ ثابت کرنے میں صرف کرتی ہیں کہ وہ مرد کے برابر ہیں۔۔۔یعنی کسی خاص مقام پر مردوں سے بڑھ کر کچھ تھوڑا سا کر دینا ہی انکی دینا ہی انکی منزل مقصود ہے۔
یہی سوچ عام ازدواجی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ نسوانیت پسندی کے مخالفین مطالعہ تاریخ سے دلیل لائے ہیں”عورتوں نے کبھی کوئی عظیم چیز تخلیق نہیں کی”۔
میں پوچھتی ہوں دنیا کا کوئی بھی عظیم چیز تخلیق ہو سکا ہے؟
اگر آپ کہیں کہ یہ فطری عمل ہے تو گود کی اس گرمی کا کیا؟ اس سوچ اس پرورش کا کیا؟ جسکا ایک بڑا حصہ میرے حساب سے اسے اپنی ماں سے ملتا ہے۔ باقی نسبتاََ کافی کم باپ اور ماحول مل کر اسے دیتے ہیں (سوائے چند مخصوص حالات کے) دنیا کی عظیم روحوں میں آئن سٹائن سے لے کر ستار ایدھی تک کا ذکر ہوتا ہے۔ مگر کہیں بھی انکی ماؤں کو سامنے نہیں لایا جاتا۔ حالانکہ اگر ایسا کیا جائے تو عورت کے ذہن میں پڑی گرہ کھلنے میں مدد مل سکتی ہے آئن سٹائن دنیا کے عظیم سائنسدان کہتے ہیں”شعوری بالیدگی کی نوشونما کا آغاز پیدائش سے اور موت پر ہی اسکا اختتام ہونا چاہیے”۔
یعنی پیدائش اور اس کے بعد کا وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ستارایدھی کی والدہ انہیں خرچ کے لئے رقم دیکر اسکول بھیجتے ہوئےکہتی تھیں کہ آدھے پیسے کسی ضرورت مند کو دے دو۔ تو یہ انسانیت کا سبق ایدھی کے خون میں کہاں سے شامل ہو؟
عموماََ خواتین اپنے آپ کو مرد کے برابر ظاہر کرنے کے لئے بڑے بھونڈے طریقے اختیار کرتی ہیں مشلاََ عدم برداشت اپنے فیصلے زبردستی دوسروں پر مسلط کرنا اور کسی دوسرے کی رائے کی اہمیت نہ دینا، جابے جا غصے کا اظہار، لڑائی جھگڑا وغیرہ۔ اگر وہ اپنے ذہن کو اس الجھن سے نکال لیں تو وہ اس انداز میں سوچیں گی جوان کے حق میں بہتر ہونہ کہ جو انکی اور ان سے وابستہ دوسرے افراد کی تباہی کا باعث ہو۔۔۔
عورت کو تخلیقی صلاحیتوں کی مالک کہنے کا مطلب صرف اسکا ایک ذی روح کو دنیا میں نہیں بلکہ اسکو انسان بنانا، ایک بہتر انسان یا پھر ایک غیر معمولی انسان بنانا ہی ایک عورت کی برتری کا امتحان ہے۔۔۔فنکار اپنے فن پارے سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ اپنی ذات کے حوالے سے۔ سٹیکل نے اپنی کتاب:
Frigidity in Womanمیں کہا: ترجمہ:
بچے آپ کی محروم و شکستہ کے متبادل نہیں، نہ ہی وہ زندگی میں آپ کے کسی گمراہ تصور کت متبادل ہیں، بچے محض آپ کے خالی و جود کو بھرنے والا مواد نہیں ہوتے۔ بچے ایک دمہداری، ایک موقع ہیں۔ بچے بلا رکاوٹ محبت کے درخت پر شاندار ترین شگوفے ہیں۔ وہ نہ تو کھلونے ہیں اور نہ ہی والدین کی ضروریات یا ناکام اداروں کی تکمیل کے اوزار ۔ بچے فرائض ہیں: انکی تربیت اس طرح کرنی چاہئے کہ وہ شاداں انسان بنیں۔ Pg. 630 – 631 ” عورت”۔
یہی وہ معاملات ہیں جہاں برابری ضروری ہے بلکہ مصلحت پسندی اور برداشت کہیں کہیں عورت کو مرد سے برتر بھی بنا دیتیں ہیں۔
قوت برداشت میں مردوں سے کہیں بر تر عورت تب ہی بر تر مانی جائے گی جب وہ اپنے سب سے پہلے فرض اپنے گھر کو مثالی بنائے گی۔۔۔اور یہی مثالی گھر اسکی طاقت کا سر چشمہ ہوگا جو اسے باقی فتوحات کے قابل بنائے گا۔
کیسے؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔

Loading Facebook Comments ...